ماہر تعليم آفاق صدیقی انتقال کر گئے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

ممتاز محقق، ماہر تعليم اور شاعر و مترجم پروفيسر آفاق صديقي کو سخي حسن قبرستان ميں سپردخاک کرديا گيا۔ وہ طویل علالت کے بعد پیر کی صبح انتقال کرگئے تھے۔

ان کي عمر 84 برس تھي۔ انہوں نے سوگواران میں بیوہ اور ایک بیٹا چھوڑے ہیں۔ان کی نماز جنازہ بعد نماز عصر بفرزون میں ادا کی گئی جبکہ تدفین سخی حسن قبرستان میں ہوئی۔

نمازِ جنازہ اور تدفین میں ادیبوں، شاعروں، اور سیاسی کارکنوں کی ایک خاصی تعداد نے شرکت کی۔

ان کی خدمات کے اعتراف میں انھیں تمغۂ حسنِ کارکردگی دیا گیا۔ اس کے علاوہ انھیں مختلف اوقات میں ایک درجن سے زائد دیگر ایوارڈ بھی پیش کیے گئے تھے۔

وہ چار مئی انیس سو اٹھائیس کو انڈیا کی ریاست اتر پردیش کے شہر فرخ آباد میں پیداہوئے۔ انھوں نے علی گڑھ سے گریجوئیشن کی اور تقسیم کے بعد پاکستان منتقل ہو گئے۔

ان کے والدین ان کے پاکستان آنے کے حق میں نہیں تھے لیکن وہ پاکستان آئے اور سندھ کے شہر سکھر میں رہنے لگے۔

انہوں شروع ہی سے تدریس کو اپنایا اور مختلف حیثیتوں میں تدریسی فرائض انجام دیتے رہے۔

ان کی مادری زبان اگرچہ اردو تھی لیکن انھیں فارسی، ہندی اور سندھی پر بھی دسترس حاصل تھی۔ شاید اسی بنا پر انھیں تحقیق اور ترجمے سے بھی رغبت تھی اور ان کے قریبی دوستوں کے مطابق انہوں نے چالیس کے لگ بھگ تصانیف چھوڑی ہیں۔ جن میں اٹھارہ تصانیف سندھی زبان میں ہیں۔

ان کے تحقیق کام اور تراجم کو اردو اور سندھي ادب کے حوالے سے نہايت اہم تصور کیا جاتا ہے۔

انہوں نے شاہ عبداللطيف بھٹائي اور سچل سرمست اور شيخ اياز کي شاعری کو بھی اردو میں منتقل کیا۔ ان کی ان خدمات کی بنا پر انھیں سندھي اور اردو بولنے والوں کے درميان ايک پل بھی قرار دیا جاتا تھا۔

انھوں مسلم ایجوکیشنل سوسائٹی کے نام سے ایک تنظیم قائم کی جس نے سکھر اور شہر کے نواح میں چودہ ایسے سکول قائم کیے جن میں کم اور اوسط آمدنی والے خاندانوں کے بچوں کو تعلیم دی جاتی تھی۔

تدریسی فرائض سے ریٹائر کیے جانے کے بعد وہ کراچی منتقل ہو گئے اور اردو سندھی ادبی فاؤنڈیشن کے نام سے ایک تنظیم قائم کی۔ اس تنظیم کے قیام کا مقصد ایسے ادیبوں کی کتابیں شائع کرانا تھا جو اپنی کتابیں خود شائع کرانے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔

ان کے دوستوں اور احباب کا کہنا ہے کہ خود ان کی اپنی متعدد تصانیف اشاعت کے انتظار میں ہیں۔

پروفیسر آفاق صدیقی نےاردواور سندھی ادب کی گراں قدر علمی خدمات سرانجام دیں۔ انیس سو اکاون میں انہوں نے رسالہ ’کوہ کن‘ نکالا، انیس سو ترپن میں سندھی ادبی سرکل قائم کیا۔

انیس سو اکسٹھ میں انہوں نے سندھی کہانیوں پرمشتمل کتاب ماروی کے دیس میں تحریر کی انہوں نے چالیس سے زائد کتابیں تصنیف کیں۔ ان کا لکھا شاہ جو رسالو کا اردو ترجمہ بے پناہ مقبول ہوا۔ آفاق صديقی ساٹھ سال سےشعبہ تعليم سے وابستہ تھے۔ آفاق صدیقی چھیاسی سال کی عمرمیں انتقال کر گئے۔ انہوں نے سوگواران میں بیوہ اور بیٹا چھوڑا ہے۔