کوئٹہ: ٹیچر کی ہلاکت کے بعد شدید احتجاج

کوئٹہ: فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بلوچستان میں حالات دن بدن بدتر ہوتے جا رہے ہیں

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں نامعلوم موٹرسائیکل سواروں کی فائرنگ سے نواب خیربخش مری کے گھریلو و ذاتی امور کے نائب اورہائی سکول کلی شیخان کے وائس پرنسل نذیر احمد مری ہلاک ہوگئے جس پر سکول کے طلباء نے احتجاجاً سریاب روڈ، ڈبل روڈ اور ارباب کرم خان روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق منگل کی صبح ماسٹر نذیر احمد مری اپنے کمسن بھتیجے کے ہمراہ نواب خیر بخش مری سٹریٹ پر واقع اپنے گھر سے نکل کر چند قدم کے فاصلے پر موجود گورنمنٹ ہائی سکول کلی شیخان جا رہے تھے کہ ارباب کرم خان روڈ میں پہلے سے تاک میں بیٹھے مسلح موٹر سائیکل سواروں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں ماسٹر نذیر احمد مری کے چہرے اور سر پر کئی گولیاں لگیں اور وہ شدید زخمی ہوگئے جبکہ ان کا بھتیجا معجزانہ طور پر محفوظ رہا۔

ماسٹرنذیر کو شدید زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا جا رہا تھا کہ وہ راستے میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔

ماسٹر نذیر احمد مری گزشتہ 32 سالوںسے شعبہ تعلیم سے منسلک تھے اور وہ گورنمنٹ ہائی سکول کلی شیخان میں بطور وائس پرنسل اپنے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔

اس کے ساتھ ساتھ وہ ممتاز بلوچ قوم پرست رہنما نواب خیر بخش مری کے ذاتی و گھریلو امور کے نائب تھے۔ نواب مری سے قریبی تعلقات کی بناءپر انہیں جنرل مشرف دور میں تین مرتبہ گرفتار بھی کیا گیا تھا۔

مگر ہر بار عدم ثبوت کی بناء پر انہیں رہا کردیا گیا۔

جنوری 2000میں جسٹس نواز مری قتل کیس میں بزرگ بلوچ رہنما نواب مری اور مری قبیلے کے سینکڑوں لوگوں کی گرفتاری کے وقت ماسٹر نذیر احمد کو سی آئی اے پولیس نے گرفتار کیا تھا اور تقریباً چھ ماہ تک پولیس اور سی آئی اے کے حراست میں رہنے کے بعد عدم ثبوت کی بناء پر اسے رہا کر دیا گیا۔

دوسری مرتبہ ماسٹر صاحب کو 17نومبر 2005کو اغواء کرکے غائب کردیا گیا اور پھر چند ہفتہ بعد وہ بازیاب ہوئے۔

تیسری بار 2 نومبر 2006کو ایک مرتبہ پھر ماسٹر نذیر احمد کو اغواء کرکے لاپتہ کردیا گیا اور تقریباً ایک سال تک لاپتہ رہنے کے بعد شدید لاغر و کمزور حالت میں چھوڑ دیا گیا۔

ماسٹر نزیر احمد کی ہلاکت کی خبر سنتے ہی کلی شیخان کے طلباء سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے سریاب روڈ، ڈبل روڈ اور ارباب کرم خان روڈ پر رکاوٹیں کھڑی کرکے انہیں ہرقسم کی ٹریفک کیلئے معطل کردیا اور دن بھر ٹائر جلا کر سڑکوں پر احتجاج کرتے رہے۔ طالبعلموں نے پولیس موبائل وین سمیت کئی گاڑیوں پر پتھراؤ کیا اور حکومت کے خلاف شدید نعر ہ بازی کی۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسوگیس کا استعمال کیا تاہم کوئی طالب علم زخمی نہیں ہوا۔

دوسری جانب گورنمنٹ ٹیچر ایسوسی ایشن نے ماسٹر نذیر احمد مری کی ہلاکت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے بطور احتجاج کوئٹہ کے تمام سکول بند کرا دیے ہیں۔

اساتذہ تنظیموں نے متنبہ کیا کہ اگر تین روز میں ماسٹرنذیر کے قاتلوں کو گرفتار نہ کیاگیا تو سکولوں پر غیر معینہ مدت تک تالا بندی کردی جائے گی۔

دوسری جانب ڈی آئی جی آپریشن قاضی واحد نے کہا کہ واقعہ کے بعد پولیس نے شہر کی ناکہ بندی کر دی ہے اور امکان ظاہرکیا کہ جلد ہی ماسٹر نذیرکے قاتلوں کو گرفتار کیا جائےگا۔

اسی بارے میں