چونتیس سال کا سیاسی سفر

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یوسف رضا گیلانی نے چھبیس مارچ 2008 کو وزارتِ عظمیٰ کا حلف اٹھایا تھا

پاکستان کی سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت نااہل ہونے والے وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی نے چونتیس سال قبل صدر جنرل ضیاء الحق کی آمریت میں عملی سیاست کا آغاز کیا تھا۔

مخدوم یوسف رضا گیلانی نو جون سنہ انیس سو باون کو جنوبی پنجاب کے ضلع ملتان کے ایک ایسے بااثر جاگیردار پیرگھرانے میں پیدا ہوئے جو پچھلی کئی نسلوں سے سیاست میں مضبوطی سے قدم جمائے ہوئے ہے۔

ملتان کی درگاہ حضرت موسٰی پاک کا گدی نشین ہونے کی بناء پر ان کا خاندان مریدین یا روحانی پیروکاروں کا بھی وسیع حلقہ رکھتا ہے۔

ان کے دادا سید محمد رضا شاہ گیلانی تحریک پاکستان کے رہنماؤں میں شمار کیے جاتے ہیں اور ان کے بارے میں مشہور ہے کہ انہوں نے کبھی کسی انتخاب میں شکست نہیں کھائی۔ ان کے والد کا نام سید علمدار حسین گیلانی ہے جبکہ معروف سیاست دان حامد رضا گیلانی ان کے چچا تھے۔ یوسف رضا گیلانی کی مسلم لیگ فنکشنل کے سابق سربراہ پیر پگاڑا سے بھی قریبی نسبتی عزیز داری بھی ہے اور پیر پگاڑا کی پوتی یوسف رضا گیلانی کی بہو ہیں۔

یوسف رضا گیلانی نے انیس سو ستر میں گریجویشن اور انیس سو چھہتر میں پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے صحافت کیا۔ انہوں نے اپنی عملی سیاست کا آغاز سنہ انیس سو اٹھہتر میں اس وقت کیا جب انہیں مسلم لیگ کی سینٹرل ورکنگ کمیٹی کا رکن چنا گیا اور سنہ انیس سو بیاسی میں وہ وفاقی کونسل کے رکن بن گئے۔

یوسف رضا گیلانی نے انیس سو تراسی میں ضلع کونسل کے انتخابات میں حصہ لیا اور سابق سپیکر قومی اسمبلی اور پیپلز پارٹی کے موجودہ رہنما سید فخر امام کو شکست دیکر چیئرمین ضلع کونسل ملتان منتخب ہوئے۔

سنہ 1985 میں انہوں نے صدر جنرل ضیاء الحق کے غیر جماعتی انتخابات میں حصہ لیااور وزیراعظم محمد خان جونیجو کی کابینہ میں وزیر ہاوسنگ و تعمیرات اور بعد ازاں وزیرِ ریلوے بنائے گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یوسف رضا گیلانی نے چونتیس سال قبل صدر جنرل ضیاء الحق کی آمریت میں عملی سیاست کا آغاز کیا تھا

انیس سو اٹھاسی میں وہ پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے اور اسی برس ہونے والے عام انتخابات میں انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کی ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لیا اور اپنے مدمقابل نواز شریف کو شکست دی جو قومی اسمبلی کی چار نشستوں پر امیدوار تھے۔ان انتخابات میں کامیابی کے بعد یوسف رضا گیلانی ایک مرتبہ پھر وفاقی کابینہ کے رکن بننے اور اس مرتبہ انہیں بینظیر بھٹو کی کابینہ میں سیاحت اور ہاؤسنگ و تعمیرات کی وزارت ملی۔

یوسف رضا گیلانی نوے کے انتخاب میں تیسری مرتبہ رکن اسمبلی بننے اور انیس سو ترانوے میں صدر غلام اسحاق خان کی طرف سے اسمبلی کی تحلیل کے بعد نگران وزیر اعظم بلخ شیر مزاری کی نگران کابینہ میں انہیں بلدیات کا قلم دان سونپاگیا۔

انیس سو ترانوے کے انتخابات میں یوسف رضا گیلانی چوتھی مرتبہ رکن اسمبلی منتخب ہوئے اور بینظیر بھٹو کے دور حکومت میں قومی اسمبلی کے سپیکر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ انہوں نے اپنی سپیکر شپ کے دوران قائم مقام صدر کے فرائص بھی سرانجام دیے۔

ماضی میں انتخابات میں کامیابی کے باوجود یوسف رضا گیلانی فروری ستانوے میں ہونے والے انتخابات میں ناکام رہے۔

سنہ انیس سو اٹھانوے میں انہیں پیپلز پارٹی کا وائس چیئرمین نامزد کر دیا گیا لیکن دسمبر 2002ء میں انہوں نے اپنے بھانجے اور رکن قومی اسمبلی اسد مرتضیٰ گیلانی کی جانب سے پیپلز پارٹی میں بننے والے فارورڈ بلاک میں شامل ہونے پر پارٹی کے عہدے سے استعفی دیدیا۔

سیاسی کیرئر کے دوران یوسف رضا گیلانی کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات میں نیب نے ریفرنس دائر کیا اور راولپنڈی کی ایک احتساب عدالت نے ستمبر سنہ دو ہزار چار میں یوسف رضا گیلانی کو قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں تین سو ملازمین غیر قانونی طور پر بھرتی کرنے کے الزام میں دس سال قید با مشقت کی سزا سنائی تاہم سنہ دو ہزار چھ میں یوسف رضا گیلانی کو عدالتی حکم پر رہائی مل گئی ۔

یوسف رضا گیلانی نے اڈیالہ جیل میں اسیری کے دوران اپنی یاداشتوں پر مبنی پر ایک کتاب’چاہ یوسف سے صدا‘ بھی لکھی۔

وہ فروری سنہ دو ہزار آٹھ کے انتخابات میں ملتان سے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر پانچویں مرتبہ رکن اسمبلی منتخب ہوئے۔ دو ہزار آٹھ کے انتخابات کے بعد ابتداء میں یوسف رضا گیلانی کو وزارتِ عظمٰی کے لیے مضبوط امیدوار گردانا نہیں جا رہا تھا اور پنجاب سے ممکنہ امیدوار کے طور پر احمد مختار کا نام خبروں میں تھا۔

تاہم پاکستان پیپلز پارٹی نے انہیں بائیس مارچ سال دو ہزار آٹھ کو ملک کے نئے وزیراعظم کے لیے نامزد کر دیا۔ اس کے ایک دن بعد چوبیس مارچ کو نو منتخب قومی اسمبلی نے یوسف رضا گیلانی کو نیا قائدِ ایوان منتخب کر لیا اور چھبیس مارچ کو انہوں نے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا تھا اور وہ چار سال ایک ماہ اور ایک دن تک اس عہدے پر فائز رہے۔

وہ بلخ شیر مزاری کے بعد سرائیکی علاقےسے منتخب ہونے والے پہلے وزیراعظم تھے جبکہ اس سے پہلے سرائیکی بیلٹ سے بلخ شیر مزاری نگران وزیراعظم بنے تھے۔

چار سالہ دورِ اقتدار میں یوسف رضا گیلانی کی حکومت اور ملک کی عدلیہ کے درمیان صدر کے خلاف مقدمات کھولنے کے لیے سوئس حکام کو خط لکھنے کے معاملے پر کشیدگی جاری رہی اور سپریم کورٹ کی یہی ’حکم عدولی‘ ان کے اقتدار کے خاتمے کی وجہ بھی بنی۔

اسی بارے میں