وزارتِ عظمیٰ: پانچوں امیدواروں کے کاغذاتِ نامزدگی منظور

مخدوم شہاب الدین تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption مخدوم شہاب الدین کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے اور وہ پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنماؤں میں سے ہیں

پاکستان کی قومی اسمبلی کی سپیکر نے ملک کے نئے وزیراعظم کے لیے پیپلز پارٹی کے نامزد امیدوار مخدوم شہاب الدین اور دو ’متبادل‘ امیدواروں سمیت پانچوں امیدواروں کے کاغذاتِ نامزدگی منظور کر لیے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے متبادل امیدواروں میں راجہ پرویز اشرف اور قمر الزمان کائرہ شامل ہیں جبکہ دیگر دو امیدوار مسلم لیگ (ن) کے مہتاب عباسی اور جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان ہیں۔

رات گئے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ایوانِ صدر میں ہونے والی اتحادی جماعتوں کے ساتھ ایک میٹنگ میں پی پی پی کے نامزد امیدوار کی حمایت کا اعلان کیا گیا۔

پیپلز پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے بتایا کہ اتحادی جماعتوں نے وزیرِ اعظم کے لیے پی پی پی کے امیدوار کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔

اس بات کا بھی فیصلہ کیا گیا کہ جمعہ کی صبح گیارہ بجے سید خورشید شاہ پیپلز پارٹی کے نامزد امیدوار کے نام کا اعلان کریں گے۔

اس سے قبل جمعرات کو کاغذاتِ نامزدگی جمع کروانے کے لیے ارکانِ اسمبلی اپنی اتحادی جماعتوں کے نمائندوں اور پارٹی کے اراکین کے ہمراہ قومی اسمبلی پہنچے۔

مخدوم شہاب الدین کے’ کورنگ‘ یعنی متبادل امیدواروں راجہ پرویز اشرف اور قمر الزمان کائرہ نے فارم جمع کرائے ہیں جس پر ان کے تجویز اور تائید کنندگان اپنی جماعت کے سرکردہ رہنما اور اتحادی جماعتوں کے اراکین ہیں۔

مخدوم شہاب الدین کے ساتھ سید خورشید شاہ اور قمر الزمان کائرہ سمیت متعدد سابق وزراء اور اراکین کے علاوہ متحدہ قومی موومنٹ کے بابر غوری، عوامی نیشنل پارٹی کی بشریٰ گوہر، مسلم لیگ (فنکشنل) کے حاجی خدا بخش راجڑ اور فاٹا کے منیر اورکزئی اور دیگر آئے۔

شیڈول کے مطابق کاغذات نامزدگی داخل کرنے کا وقت ختم ہونے کے بعد سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے تمام امیدواروں کے کاغذات کی جانچ پڑتال شروع کی تو مسلم لیگ (ن) کے امیدوار سردار مہتاب عباسی نے پیپلز پارٹی کے دو امیدواروں مخدوم شہاب الدین اور راجہ پرویز اشرف پر اعتراض کیا کہ ان کے خلاف مقدمات چل رہے ہیں اس لیے وہ اہل نہیں۔

لیکن سپیکر نے ان کے اعتراضات مسترد کرتے ہوئے تمام امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کو درست قرار دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں صدر نے ممکنہ امیدوار کی کسی کو بھنک بھی ہونے نہیں دی

جمعرات کی شام تک امیدواروں کی حتمی فہرست جاری کی جائے گی اور جمعہ کی شام کو ساڑھے پانچ بجے خفیہ رائے شماری ہوگی۔

اس رائے شماری میں قومی اسمبلی کے تین سو بیالیس اراکین ووٹ ڈالیں گے اور سادہ اکثریت کے لیے ایک سو بہتر ووٹ درکار ہیں۔ اگر اتحادی جماعتوں نے پیپلز پارٹی کے امیدوار کو ووٹ دیا تو وہ با آسانی جیت جائیں گے کیونکہ ایسی صورت میں انہیں دو سو سے زائد اراکین کی حمایت حاصل ہوگی۔

وزیراعظم کے انتخاب میں الیکشن کمیشن کا کوئی عمل دخل نہیں۔ کمیشن صرف انہیں دو بیلٹ باکس فراہم کرے گا اور ریٹرنگ افسر کا کام قومی اسمبلی کے سیکرٹری کریں گے۔

اس سے قبل بدھ کی رات گئے پاکستان کے صدر اور برسرِ اقتدار جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے ٹیکسٹائل کے وزیر مخدوم شہاب الدین کو وزارتِ عظمیٰ کے عہدے کے لیے نامزد کیا تھا۔

اسی بارے میں