لوڈشیڈنگ، پنجاب میں کاروباری مراکز بند

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان میں گزشتہ کئی سالوں سے بجلی کا بحران جاری ہے اور یہ وقفے وقفے سے شدت اختیار کر جاتا ہے

پاکستان میں توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے بجلی گھروں کو یومیہ اٹھائیس ہزار ٹن تیل اور اضافی گیس فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ملک میں بجلی کے بحران کے بعد شروع ہونے والے ہنگاموں کے تناظر میں وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کی سربراہی میں ہونے ایک اجلاس میں وزیراعظم نے وزارت ِ پیٹرولیم کو ہدایت کی کہ بجلی گھروں کو یومیہ اٹھائیس ہزار ٹن تیل فراہم کیا جائے تاکہ بارہ سو میگاواٹ بجلی حاصل کی جائے گی۔

اس کے علاوہ فیصل آباد کے ’جی ڈی پی ایس‘ بجلی گھر کو اضافی گیس کی فراہمی سے ساٹھ میگاواٹ جب کہ کراچی میں بجلی کی ترسیل کے ادارے’ کے ای ایس سی‘ کو بھی اضافی گیس فراہم کر کے تین سو میگا واٹ بجلی حاصل کی جائے گی۔

اعلیٰ سطحی اجلاس میں تجویز کیا گیا کہ انڈسٹری کو مزید ایک دن کے لیے گیس کی فراہمی بند کر کے اسے صوبہ پنجاب میں بجلی گھروں کو فراہم کر کے بجلی پیدا کی جائے۔

دوسری جانب بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کے خلاف پنجاب کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے اور کاروباری مراکز بند رہے۔

تاجر تنظیموں کے فیصلوں کی روشنی میں جنوبی پنجاب کے اضلاع میں ہڑتال کی گئی۔

جنوبی پنجاب کے شہر ملتان میں تاجروں نے بجلی کی طویل بندش کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اہم تجارتی مزاکر بند رکھے اور مختلف مقامات پر مظاہرے کیے۔

تاجروں نے بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف ریلیاں بھی نکالیں اور ٹائر جلا کر احتجاج کیا۔ مظاہرین نے جو کتبے اور بینرز اٹھا رکھے ان پر بجلی کی طویل بندش کے خلاف عبارتیں درج تھی اور لوڈشڈینگ بند کرو کے نعرے لگا رہے تھے۔

تاجروں رہنماؤں نے اپنے خطاب میں کہا کہ بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے ان کے کاروبار تباہ ہوگئے ہیں۔

وہاڑی، میلسی ، بورے والا، ڈیرہ غازی خان اور رحیم یار خان میں تاجروں نے مکمل ہڑتال کی جس کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں۔

اس کے علاوہ راولپنڈی میں بھی لوگوں نے لوڈ شیڈنگ کے خلاف مظاہرے کیے اور سرکاری اور غیر سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا۔

بجلی کے طویل بندش کے خلاف ہونے والے احتجاج میں کسی ناخوش گوار واقعے سے بچنے کے لیے مقامی انتظامیاں کی طرف سے حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔

بجلی فراہم کرنےوالے اداروں اور ارکان اسمبلی کے گھروں کے باہر پولیس اہلکار مامور کیے گئے تھے۔

ادھر وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا کہنا ہے کہ انہیں نئے وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف سے بجلی کے مسئلے کو حل کرنے کی کوئی امید نظر نہیں آتی۔

اسی بارے میں