کراچی: نجی ٹی وی چینل کے دفتر پر فائرنگ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption آج نیوز کا دفتر شہر کے مرکزی اور مصروف علاقے میں واقعہ ہے

پاکستان کے ایک نجی ٹیلی ویژن چینل آج نیوز کے کراچی میں مرکزی دفتر پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ میں دو افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے آج نیوز پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

تحریک طالبان کے ترجمان نے بی بی سی کے نامہ نگار دلاور خان وزیر کو نامعلوم مقام سے ٹیلی فون کر کے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ آج نیوز طالبان مخالف تبصرے کر رہا تھا اور ان کا موقف درست انداز میں پیش نہیں کر رہا تھا۔

ترجمان کے مطابق چند روز پہلے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع دیر میں سکیورٹی فورسز پر حملے کے بعد آج نیوز نے طالبان کے خلاف پروپیگنڈا کیا تھا۔

دوسری جانب آج نیوز کے مطابق موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم مسلح افراد کی کراچی میں واقع ان کے مرکزی دفتر پر فائرنگ کے نتیجے میں ایک سکیورٹی گارڈ اور آج نیوز کا ایک ملازم زخمی ہو گیا ہے۔

آج نیوز کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق حملہ آوروں کی تعداد چار تھی اور وہ فائرنگ کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

آج نیوز کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں دفتر کے باہر کھڑی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

آج نیوز کے مطابق فائرنگ کا یہ واقعہ ایک ایسے وقت پیش آیا جب شہر قائد میں وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کی موجودگی کی وجہ سے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

وزیراعظم کے مشیر داخلہ رحمان ملک نے آج ٹی وی کے دفتر پر حملے کی سخت نوٹس لیتے ہوئے کراچی پولیس کے سربراہ سے واقعہ تحقیقاتی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

اس کے علاوہ ملک کی مختلف صحافتی تنظیموں نے فائرنگ کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان کو صحافیوں کے لیے ایک خطرناک جگہ تصور کیا جاتا ہے اور یہاں پر صحافیوں پر حملے کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں لیکن بہت کم ہی ایسا ہوا کہ ان حملوں میں ملوث افراد کا پتہ چل سکا۔

اس سے پہلے رواں سال جنوری میں صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں شبقدر کے مقام پر فائرنگ کے نتیجے میں مہمند ایجنسی کی رپورٹنگ کرنے والے مقامی صحافی مکرم خان کو ہلاک ہو گئے تھے۔

اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی تھی لیکن کسی نجی ٹی وی چینل پر طالبان کے حملے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

اسی بارے میں