صدر کے دو عہدے، ہائی کورٹ کا فل بینچ تشکیل

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

لاہور ہائی کورٹ نے پیپلز پارٹی کے شریک سربراہ کی حیثیت سے صدر زرداری کی سیاسی سرگرمیاں معطل کیے جانے کے عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کی غرض سے دائر درخواستوں کی سماعت کیلیے تین رکنی فل بنچ تشکیل دے دیا ہے۔

یہ بینچ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ، جسٹس عمر عطاء بندیال نے نے تشکیل دیا۔ اس بینچ کے سربراہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ خود ہوں گے جبکہ دیگر دو ارکان میں جسٹس اعجاز الحسن اور جسٹس منصور علی شاہ شامل ہیں۔

لاہور ہائی کورٹ یہ تین رکنی بنچ ستائیس جون سے درخواستوں پر سماعت کرے گا۔

بی بی سی کے نامہ نگار عبادالحق کے مطابق گزشتہ سال مئی میں لاہور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اعجاز احمد چودھری کی سربراہی میں فل بینچ نے صدر آصف علی زرداری کے بیک وقت دو عہدے رکھنے کے خلاف درخواست فیصلہ دیا تھا جس میں اس توقع اظہار کیا گیا کہ آصف زرداری صدر پاکستان کی حیثیت سے ایوان صدر میں کوئی سیاسی سرگرمی نہیں کریں گے۔

درخواست گزار وکلاء نے اپنی درخواستوں میں یہ اعتراض اٹھایا ہے کہ عدالت کے فل بینچ نے صدر مملکت آصف علی زرداری کو ایوان صدر میں سیاسی سرگرمیاں ترک کرنے کی ہدایت کی تھی لیکن عدالتی فیصلے کے باوجود صدر مملکت آصف علی زرداری حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے سربراہ کی حیثیت سے سیاسی سرگرمیاں ترک نہیں کیں۔

درخواستوں میں یہ قانونی نکتہ بھی اٹھایا گیا کہ آئین کے آرٹیکل ایک سو چار اور توہین عدالت آرڈیننس کی دفعہ تین کے مطابق کوئی بھی حکم ہو اس پر عمل کرنا ضروری ہوتا ہے لیکن صدر اس پر عمل نہیں کر رہے اور نہ ہی صدر نے اس فیصلے کے خلاف کوئی اپیل دائر کی جس پر یہ فیصلہ حتمی ہو گیا۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس عمر عطاء بندیال نے گزشتہ سماعت پر قرار دیا تھا کہ ان درخواستوں میں اہم نوعیت کے نکات اٹھائے گئے ہیں اس لیے ان درخواستوں پر کارروائی کے لیے بڑا بینچ تشکیل دیا جانا چاہیئے۔

خیال رہے کہ چیف جسٹس ہائی کورٹ نے گزشتہ سماعت پر صدر مملکت کے پرنسپل سیکرٹری کو آئندہ سماعت کے لیے نوٹس جاری کیے تھے۔

اسی بارے میں