صدارتی آرڈیننس سپریم کورٹ میں چیلنج

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یہ آرڈنینس تیئس جون کو جاری کیا گیا تھا

پاکستان کے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے اقدامات کو تحفظ دینے کے لیے صدر آصف علی زرداری کی جانب سے جاری کردہ آرڈیننس کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیاگیا ہے۔

درخواست گزار شاہد اورکزئی نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ صدر کی جانب سے جاری کردہ آرڈیننس دو دھاری تلوار ہے جس کا مقصد سپریم کورٹ کو عدالتی امور کی انجام دہی سے روکنا اور پارلیمان کو قانون سازی کرنے سے روکنا ہے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ صدر کی جانب سے ایسے اقدام پر ان کا مواخذہ بھی کیا جاسکتا ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق درخواست میں مذید کہا گیا ہے کہ صدر نے آرڈیننس جاری کرکے آئین کی خلاف ورزی کی ہے لہذا اس آرڈیننس کو منسوخ کیا جائے۔

واضح رہے کہ صدر آصف علی زرداری کی جانب سے چند روز قبل ایک آرڈیننس جاری کیا گیا تھا جس میں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے چھبیس اپریل سنہ دو ہزار بارہ سے انیس جون تک کیے جانے والے اقدامات، تقرریاں ، صدر کو دی گئی ایڈوائس اور دوسرے ملکوں کے ساتھ ہونے والے معاہدوں کو تحفظ فراہم کیا گیا تھا۔

اس آرڈیننس میں واضح کیا گیا تھا کہ اسے ملک کی کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔

پاکستان کی سپریم کورٹ نے سابق وزیرِاعظم کو توہینِ عدالت کے جرم میں پاکستان کی قومی اسمبلی کی رکنیت کے لیے نااہل قرار دے دیا تھا۔

اسی بارے میں