تجارت معطل، کشمیری حلقوں میں تشویش

لائن آف کنٹرول تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption طویل کشیدگی کے بعد 2003 میں روایتی حریف بھارت اور پاکستان کے درمیان قیام امن کے عمل کا آغاز ہوا

پاکستان اور بھارت کی جانب سے کشمیر کو تقسیم کرنے والی متنازعہ لائن آف کنٹرول کےدونوں جانب تجارت اور بس سروس جزوی طور پر معطل کرنے کے فیصلے پر بعض کشمیری حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔

انیس جون کو پہلی مرتبہ پاکستان نے راولاکوٹ اور پونچھ کے درمیان تجارت اور بس سروس معطل کردی جو ابھی تک بحال نہیں ہوئی۔

البتہ مظفرآباد اور سرینگر کے درمیان بس سروس اور تجارت معمول کے مطابق جاری ہے اور اسی طرح سے وادی نیلم میں چلنیانہ مقام پر پیدل آر پار جانے کی سہولت پر بھی کوئی اثر نہیں پڑا۔

پاکستانی حکام کہتے ہیں کہ بھارت کی فوج کی جانب سے راولاکوٹ سیکٹر میں فائرنگ اورگولہ باری کی وجہ سے یہ فیصلہ کیا گیا۔

لائن آف کنٹرول کے آر پار تجارت کرنے والے بعض تاجروں کا کہنا ہے کہ اس اقدام کی وجہ سے ان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے ایک مقامی تاجر شاہد محمود نے بھی ایسی ہی شکایت کی۔

انہوں نے کہا کہ ’اس صورت حال میں ہم کھل کر کام نہیں کرسکتے کیوں بغیر بتائے کسی بھی وقت سرحد بند کر دی جاتی ہے اور دونوں جانب کے تاجر ڈر جاتے ہیں کہیں ہم مار نہ کھا جائیں‘۔

لائن آف کنٹرول کے آر پار تجارت کے آغاز کے بعدکشمیر کے تاجروں پر مشتمل جوائنٹ چیمبرز آف کامرس کے پہلے صدر ذوالفقار عباسی نے اس صورتحال کو افسوسناک قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ ‘ہم اس کو تویش کی نظر سے دیکھتے ہیں، کشمیر کے دونوں طرف کے لوگوں کو اس پر تشویش ہے خاص طور پر تاجر براداری کو‘۔

عباسی کا کہنا ہے کہ یہ قدم اعتماد سازی کے تمام اقدامات کی بنیاد ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگیں بھی ہوچکی ہے جبکہ کشمیر کے دونوں جانب تو کوئی جنگ نہیں ہوئی اور کشمیر کے دونوں طرف ایک ہی قوم بستی ہے، آخر ان کو معمول کا کاروبار کرنے اور ایک دوسرے کو ملنے کیوں نہیں دیا جا رہا یہ چیز ہماری سمجھ سے باہر ہے‘۔

ذوالفقار عباسی نے بھارت اور پاکستان سے اپیل کی کہ کشمیر کے لوگوں کو ملنے دیا جائے، انھیں کاروبار کرنے دیا جائے اور آپس میں مل بیھٹنے کا موقع دیا جائے تاکہ وہ مشکلات کم کرنے کے لیےدنیا ، بھارت اور پاکستان کو کوئی حل تجویز کرسکیں۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے سیاسی تجزیہ نگار ارشاد محمود نے اس اقدام کو غیر معمولی قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ظاہر کرتا ہے کہ بھارت اور پاکستان کی سیاسی قیادت کے درمیان جتنی بھی مفاہمت ہوجائے لیکن دونوں طرف کی اسٹیبلشمنٹ کی سوچ میں ابھی تک کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہیں آئی ہے اور وہ ابھی بھی نوے کی دہائی میں رہے رہی ہے‘۔

ان کا کہنا ہے کہ لگتا ہے کہ سیاسی قیادت کے درمیان بات چیت، وسیع مفاہمت اور مسائل کے حل کے لیے سوچ اسٹببلشمنٹ اور فوج کی قیادت تک پوری طرح سے نہیں پہنچ سکا ہے۔

مظفرآباد میں مقیم صحافی اور تجزیہ نگار عارف بہار کہتے ہیں:’ تجارت کے لیے سہولیات دی جانی چاہیے تھیں اور اس میں حائل مشکلات کو دور کیا جانا چاہیے تھا لیکن ان مشکلات کو دور کرنے کے بجائے لکٹائے رکھنے کی پالیسی اختیار کی گئی ہے‘۔

عارف بہار کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے وہ طبقہ طاقتور ہوگا جو قیام امن کے سارے عمل کو پیچھے دھکیلنا چاہتا ہے۔

اگر پاکستانی حکام کے اشاروں کو بنیاد بنائے جائے تو راولاکوٹ اور پونچھ کے درمیان تجارت اور بس سروس اگلے کچھ دنوں میں بحال ہوجائے گی۔

لیکن یہ خدشہ تو موجود ہے کہ اس تعلطل نے ذہنوں کو جس بے یقینی سے دوچار کیا اس کے اثرات بعد میں محسوس کیے جاتے رہیں گے۔

طویل کشیدگی کے بعد 2003 میں روایتی حریف بھارت اور پاکستان کے درمیان قیام امن کے عمل کا آغاز ہوا۔

اس کے نتیجے میں دونوں ہی ممالک نے متنازعہ ریاست جموں کشمیر میں اعتماد سازی کے کئی اقدامات کیے۔ مثلاً لائن آف کنٹرول پر دونوں ممالک کی فوجوں کے درمیان فائر بندی ہوئی، کشمیر کے دونوں حصوں میں بسنے والے منقسم خاندانوں کو آپس میں ملانے کے لیے مظفرآباد ، سرینگر اور راولاکوٹ، پونچھ کے درمیان بس سروس کے ساتھ ساتھ تجارت شروع کی گئی جبکہ وادی نیلم میں ایک مقام سے پیدل آر پار جانے کی سہولت دی گئی۔

اسی بارے میں