دیر بالا حملہ، ویڈیو جاری

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption وادئ سوات سے طالبان جنگجو فوجی آپریشن کے بعد قریبی قبائلی علاقوں اور افغان صوبے کنڑ کی جانب فرار ہوگئے تھے۔

کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے تین دن پہلے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع دیر بالا میں ہلاک کیے جانے والے سترہ سکیورٹی اہلکاروں کی ویڈیو جاری کر دی ہے۔

تاہم سکیورٹی فورسز نے اب تک تیرہ اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جبکہ چار لاپتہ بتائے گئے ہیں۔

بدھ کو تحریک طالبان ملاکنڈ ڈویژن کے ترجمان مولانا سراج الدین کی طرف سے پاکستانی اخبارات اور ٹی وی چینلوں کو ای میل کے ذریعے سے پانچ منٹ اور پچیس سکینڈ کی ایک ویڈیو جاری کی گئی جس میں مرنے والے اہلکاروں کو دیکھا گیا ہے۔

اس ویڈیو میں تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود اور سوات طالبان کے امیر مولانا فضل اللہ تقریر کرتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان کے عسکری ذرائع یہ کہتے رہے ہیں کہ وادئ سوات میں پاکستانی طالبان کے سربراہ مولوی فضل اللہ وہاں آپریشن کے دوران ہی افغانستان فرار ہوگئے تھے۔

ویڈیو میں مرنے والے اہلکاروں کے نام اور شناختی کارڈ بھی دکھائے گئے ہیں۔ اس ویڈیو میں سترہ اہلکاروں کے تن سے جدا سر دکھائے گئے ہیں۔

خیال رہے کہ تین دن پہلے دیر بالا کے علاقے برآول درہ میں سرحد پار سے آنے والے شدت پسندوں نے سکیورٹی فورسز کی گشتی ٹیم پر حملہ کیا تھا جس میں حکام کے مطابق تیرہ اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

پاک فوج کے ایک افسر نے ذرائع ابلاغ کو جاری کیے گئے بیان میں کہا تھا کہ ابتدائی طورپر اس حملے میں چھ اہلکار ہلاک اور گیارہ لاپتہ ہوگئے تھے جن میں سے سات کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ انہیں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ حکام کے مطابق چار اہلکار بدستور لاپتہ بتائے جاتے ہیں۔

اسی بارے میں