فیشن سے انتہا پسندی کے مقابلے پر بحث

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption 2009 میں جب پہلا فیشن ویک منقعد کیا گیا، تو بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے اس کو بہت کوریج دی: عائشہ ٹیمی

پاکستان میں کچھ عرصے سے یہ خیال گردش کر رہا ہے کہ فیشن ایک ایسا ذریعہ ہے کہ جس کی مدد سے معاشرے میں بڑھتی ہوئی انتہاپسندی کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔

فیشن کی دنیا سے تعلق رکھنے والے بعض لوگ اس خیال سے متفق بھی نظر آتے ہیں کہ ریمپ پر دلکش ملبوسات زیبِ تن کر کے کیٹ واک کرنے والی ماڈلز ملک میں عدم برداشت اور تشدد کے رجحان کو تبدیل کر سکتی ہیں۔

انتہاپسندی کا مقابلہ فیشن سے؟ آڈیو سنیے

اس خیال کو فروغ دینے میں بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے لیے پاکستان سے رپورٹنگ کرنے والے غیر ملکی صحافیوں نے بھی ایک اہم کردار ادا کیا اور لاہور یا کراچی میں جب بھی فیشن ویک منعقد ہوا تو بعض ڈیزائنرز اور منتظمین کے ساتھ ساتھ عالمی ذرائع ابلاغ نے بھی اسے دہشتگردی اور طالبانائزیشن کے خلاف ایک قوت سے تشبیہ دی۔

فیشن پاکستان کی سربراہ عائشہ ٹیمی حق نے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ سے ایک انٹرویو میں کہا کہ 2009 میں جب پہلا فیشن ویک منقعد کیا گیا، تو بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے اس کو بہت کوریج دی۔ ’وہ سب آئے اور انہوں نے لکھا کہ فیشن طالبان کا مقابلہ کر رہا ہے۔ جس کے بعد ہم نے پشاور میں بھی فیشن ویک کیا۔ پشاور ! یہ سوچا ہی نہیں جا سکتا تھا‘۔

تاہم خود پاکستان میں اس خیال پر بہت تنقید ہوئی ہے کہ کوئی فیشن شو کیسے مذہبی رواداری کی ترویج کر سکتا ہے۔

اسی بات کو لے کر ایک کاروباری شخص شاکر حسین نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک پر ایک طنزیہ گروپ قائم کیا ہے، جس کا نام ’فیشنیسٹاز اگینسٹ طالبانائزیشن‘ یعنی طالبان نظریے کے خلاف فیشن سے تعلق رکھنے والے لوگ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ

شاکر حسین کا کہنا ہے کہ اس گروپ کا بنیادی مقصد فیشن کی صنعت سے تعلق رکھنے والے ان افراد پر طنز کرنا ہے، جو اس خیال پر سنجیدگی سے یقین رکھتے ہیں۔’اس کے پیچھے سوچ یہی تھی کہ فیشن دہشتگردی یا انتہا پسندی کے خلاف ایک بڑی قوت ہے۔‘

اس چھوٹے سے گروپ کو تب شہرت ملی جب امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں پاکستان کے امیر طبقے اور فیشن کی دنیا کے بارے میں کچھ دن قبل ایک مضمون شائع ہوا۔ اس فیچر میں شاکر حسین نے کہا تھا کہ پاکستان کے با اثر یا امیر طبقہ کو ملک میں انتہا پسندی کے رجحان کا ادراک ہی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ لوگ اپنے دائرے میں ہی رہتے ہیں اور ان کا اصل زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اس لیے یہ اسی طرح کی باتیں کرتے ہیں۔‘

فیشن کی دنیا کے ان افراد کا مذاق اڑانا بہت آسان ہے، لیکن یہ بھی حقیقیت ہے کہ پاکستان میں انتہاپسند نظریے اور اس کو فروغ دینے والے پروپیگنڈے کا مقابلہ کرنے کی سنجیدگی سے کوشش بھی نہیں کی گئی۔ حکومت کا رویہ ’فائر فائٹنگ‘ کا ہے یعنی دہشتگردی کے باعث جب آگ لگی، تو اسے بجھا تو دیا گیا لیکن اس کے مستقل تدارک کے لیے ٹھوس اقدامات نہ ہو سکے۔

ملک کی سول سوسائٹی تنظیموں کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے ان کی تنگ نظری کے خلاف مہم پراثر نہیں کیونکہ ان کی پہنچ شہروں اور چھوٹے حلقوں تک محدود ہے۔ یہی نہیں بلکہ میڈیا اور خاص کر عالمی میڈیا، جب اس موضوع کے بارے میں رپورٹ کرتا ہے تو یا ملا دکھاتا ہے یا ماڈل۔

ان دونوں انتہاؤں کے درمیان نوجوان نسل کا وہ طبقہ بھی ہے جو جہادی نہیں مگر طالبان کا حامی ضرور ہے اور انتہاپسندی کی حامی یہی سوچ ملک کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔

پنجاب کے ضلع پاک پتن سے تعلق رکھنے والے ظہیر الحسن ایک ایسے ہی شخص ہیں جو ایک زمانے میں افغانستان میں امریکہ کے خلاف طالبان مزاحمت کی بہت حمایت کرتے رہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ان کی سوچ میں تبدیلی اس وقت آئی جب خودی نامی ایک تنظیم نے پاک پتن میں نوجوانوں کے لیے سیاسی اسلام اور مذہبی اسلام کی تفریق کے بارے میں ورکشاپ منعقد کی۔ورک شاپ کے بعد وہ خودی کی ٹیم کے ساتھ مستقل رابطے میں رہے، اور وہ اب اسلام آباد میں خودی کے رکن بن گئے ہیں۔

ظہیر کے مطابق ’جہاد تو میں نہیں کرنا چاہتا تھا میں ان کی حمایت ضرور کرتا تھا، کہ ان کے کام عظیم ہیں اور وہ اچھے لوگ ہیں اور یہ سوچ جہادی ہونے سے زیادہ خطر ناک ہے‘۔

خودی پاکستان کے اہلکار اسے سماجی تحریک کہتے ہیں اور اسے دو سال قبل قائم کیا گیا تھا۔ خودی کے بانی پاکستانی نژاد برطانوی ماجد نواز ہیں، جو ماضی میں حزب التحریر کے ساتھ وابستہ رہے تاہم مصر میں قید ہونے کے بعد انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ سیاسی اسلام کے خلاف مہم چلائیں گے۔

خودی کے اہلکار عمران خان کا کہنا ہے کہ ’جو دہشتگردی ہمیں ملک میں نظر آتی ہے وہ مذہبی انتہا پسندانہ سوچ کا نتیجہ ہے اور اس سوچ کا مقابلہ کرنا بہت ضروری ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام کو جاننا ہوگا کہ دہشتگرد تنظیمیں اسلام کو جواز بنا کر انہیں استعمال کرتی ہیں اور اسلام کو سیاسی رنگ دیا جاتا ہے۔

پاکستان میں فیشن کس حد تک تنگ نظری یا انتہاپسندی کے رجحان میں کمی لانے میں کامیاب رہا ہے اس حوالے سے تو کوئی اعداد و شمار موجود نہیں ہیں تاہم پاکستان کی مڈل کلاس کا نوجوان جو انفرادی یا اجتماعی کوششیں کر رہا ہے اس کا اثر نظر آنا شروع ہو گیا ہے۔

اسی بارے میں