دیر بالا: سرحد پر سے ایک اور حملہ، چھ ہلاک

سکیورٹی فورسز تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption دیر بالا میں سکیورٹی فورسز پر حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع دیر بالا میں سرحد پار سے پاکستانی سکیورٹی فورسز پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور تازہ کارروائی میں حکام کے مطابق شدت پسندوں کا ایک حملہ پسپا کیا گیا جس میں چھ حملہ آور مارے گئے ہیں۔

سوات میڈیا سنٹر کے ترجمان کرنل عارف نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعہ کی صبح پاک افغان سرحدی علاقے کڑاکڑ میں افغان علاقے سے پاکستانی سکیورٹی چیک پوسٹوں پر حملہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے عسکریت پسندوں کے حملے کو ناکام بنا دیا اور اس دوران چھ شدت پسند مارے گئے۔ تاہم طالبان ذرائع سے ان ہلاکتوں کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

خیال رہے کہ پچھلے ایک ہفتہ سے دیر کے اضلاع میں سرحد پار سے حملوں میں شدت آ رہی ہے۔ گزشتہ روز بھی ایک حملہ پسپا کیا گیا تھا جبکہ اس سے قبل چوبیس جون کو ہونے والے حملے میں سترہ سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

اس حملے میں حکام کے مطابق افغانستان سے 100 سے زیادہ شدت پسندوں نے پاکستانی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی جہاں گشت پر موجود پاکستانی سکیورٹی فورسز کی ایک ٹیم کی ان کے ساتھ جھڑپ ہوئی تھی۔ پاکستان نے اس حملے پر افغان حکام سے سخت احتجاج کرکے حملہ آوروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔

اس کے علاوہ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے افغانستان میں تعینات بین الاقوامی اتحادی فوجوں کے کمانڈر جنرل جون ایلن سے کہا تھا کہ وہ افغانستان سے پاکستانی حدود میں شدت پسندوں کے حملوں کو روکنے کے لیے اقدامات کریں۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ تقریباً ایک سال قبل بھی سرحد پار سے پاکستانی علاقوں پر شدت پسندوں کی طرف سے متعدد حملے کئے گئے تھے جس میں حکام کے مطابق سو سے زائد سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

ادھر دوسری طرف پشاور کے علاقوں متنی اور سوڑزئی میں ایک سرکاری سکول اور مزار کو بارودی مواد سےنشانہ بنایا گیا ہے جس سے عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔ یہ واقعات جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب پیش آئے۔ پشاور میں چند دن پہلے بھی ایک مزار کے قریب ہونے والے دھماکے میں تین افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں