چونتیس کروڑ کا لین دین، مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی قائم

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یہ نہیں بتایا گیا کہ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے کتنا وقت درکار ہوگا

پاکستان کے قومی احتساب بیورو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے بیٹے ڈاکٹر ارسلان اور نجی تعمیراتی کمپنی بحریہ ٹاؤن کے سابق سربراہ ملک ریاض کے درمیان مبینہ بدعنوانی کے معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی ہے۔

اس کمیٹی کے سربراہ نیب کے ڈائریکٹر جنرل فنانشل کرائم ہوں گے جبکہ اس کمیٹی میں اسلام آباد پولیس اور ایف آئی اے یعنی وفاقی تحقیقاتی ادارے کے اہلکار بھی شامل ہوں گے۔

یاد رہے کہ ملک ریاض نے الزام عائد کیا تھا کہ اُنہوں نے سپریم کورٹ میں بحریہ ٹاؤن اور اُن کی ذات سے متعلق زیر سماعت مقدمات میں ریلیف حاصل کرنے کے لیے نقدی اور ارسلان افتخار کے بیرون ممالک دوروں پر اُٹھنے والے اخراجات کی مد میں چونیتس کروڑ روپے دیے ہیں تاہم اتنی رقم خرچ کرنے کے باوجود اُنہیں کوئی ریلیف نہیں ملا۔

سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو اس واقعہ کی تحقیقات کرنے کا حکم دیا تھا جس پر اٹارنی جنرل نے نیب کو اس واقعہ کی تحقیقات کے لیے خط لکھا تھا۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اس تحقیقاتی ٹیم میں ایف آئی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر نصراللہ گوندل اور اسلام آباد پولیس کے ایس پی فیصل میمن شامل ہیں۔ نیب حکام کی طرف سے یہ نہیں بتایا گیا کہ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے کتنا وقت درکار ہوگا۔

نیب کے چیئرمین فصیح بخاری نے سنیچر کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقاتی ٹیم اس معاملے میں دستیاب دستاویزات ، مالی اور کاروباری پہلوؤں کو مدنظر رکھے گی۔ اُنہوں نے ڈاکٹر ارسلان افتخار کے وکیل کی جانب سے چیئرمین نیب کو لکھے جانے والے دھمکی آمیز قرار دیتے ہوئے اسے توہین عدالت کے مترادف قرار دیا۔

ڈاکٹر ارسلان کے وکیل نے نیب کے چیئرمین کو خط میں لکھا تھا کہ وہ صرف پینتالیس لاکھ روپے کی انکوائری کر سکتے ہیں جس کی دستاویزات عدالت میں پیش کی گئیں جبکہ باقی رقم سے متعلق کوئی ثبوت عدالت میں پیش نہیں کیا جاسکا اس لیے نیب اپنے آپ کو اس رقم کی حد تک ہی محدود رکھے۔

اس سے پہلے نیب کے چیئرمین کی طرف سے یہ بیان سامنے آیا تھا کہ نیب ڈاکٹر ارسلان اور ملک ریاض کے معاملے کی تحقیقات نہیں کرسکتا کیونکہ اس معاملے میں قومی خزانے کو نقصان نہیں پہنچا۔

ایک سوال کے جواب میں چئیرمین نیب کا کہنا تھا کہ کرائے کے بجلی گھروں کی تحقیقات سے متعلق نیب نے اس وقت کے وفاقی وزیر اور موجودہ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کے لیے وزارت داخلہ کو خط لکھا تھا لیکن اس کا ابھی تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ اُنہوں نے کہا کہ اس مقدمے کی تحقیقات سے متعلق اگر راجہ پرویز اشرف دوبارہ مطلوب ہوئے تو اُنہیں طلب کیا جائے گا۔

پاکستان مسلم لیگ نون کے صدر میاں نواز شریف کے خلاف منی لانڈرنگ سے متعلق رحمان ملک کی طرف سے پیش کی گئی دستاویزات سے متعلق فصیح بخاری کا کہنا تھا کہ اس معاملے کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاہم کسی کے خلاف کوئی سیاسی مقدمہ درج نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی اس ادارے کو سیاسی مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

اُنہوں نے کہا کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین توقیر صادق کی گرفتاری کے لیے وارنٹ جاری ہوگئے ہیں۔ توقیر صادق حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل جہانگیر بدر کے قریبی رشتہ دار ہیں۔

نیب کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ زیر التوا مقدمات کو نمٹانے کے لیے مزید تین سو افراد کو بھرتی کیا جائے گا۔

اسی بارے میں