لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاجی مشاعرہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پنجاب میں صوبائی حکومت بھی لوڈشیڈنگ کے خلاف پرامن احتجاج کی حوصلہ افزائی کرتی رہی ہے

پنجاب میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف ہونے والے احتجاج میں اب شاعر بھی شامل ہوگئے ہیں تاہم شعرا نے احتجاج کے لیے سڑکوں پر آنے اور مظاہرے کرنے کے بجائےاحتجاجی مشاعرے کا نرالہ اور دلچسپ طریقہ اختیار کیا ہے۔

بجلی کی لوڈشیڈّنگ کے خلاف یہ احتجاجی مشاعرہ پنجاب کے ضلع وہاڑی میں ہوا اور اس کا انتظام مقامی پریس کلب میں کیا گیا۔

مشاعرے کا انتظام کرنے والے ڈاکٹر اکرم عتیق نے بی بی سی کو بتایا کہ احتجاجی مشاعرے کا مقصد جہاں حکمرانوں تک اپنی بات پہنچانا تھی وہیں لوگوں کو یہ پیغام دینا تھا کہ بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج کے لیے پرامن طریقہ اختیار کیا جائے اور سرکاری اور نجی املاک کو نقصان نہ پہنچایا جائے۔

بی بی سی کے نامہ نگار عبادالحق کے مطابق بجلی کی بندش کے خلاف یہ اپنی نوعیت کا پہلا احتجاجی مشاعرہ ہے جو پنجاب کے کسی شہر میں ہوا۔

بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کے خلاف پنجاب میں پرتشدد احتجاج ہوا جس کے دوران سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچایا گیا بلکہ حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی کےگھروں پر بھی حملے کیے گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بجلی کے بحران سے تنگ لوگوں نے ہر طرح سے احتجاج کر لیا ہے

ڈاکٹر اکرم عتیق نے بتایا کہ بجلی کی طویل بندش پر پرتشدد مظاہروں کے بعد ان کی ساتھیوں نے انہیں بجلی کی لوڈشیڈنگ پر پرامن احتجاج کرنے کے لیے احتجاجی مشاعرے کی تجویز دی۔

انہوں نے بتایا کہ احتجاجی مشاعرے میں شرکت کے لیے بائیس شعراء کو دعوت دی گئی تھی لیکن ’احتجاجی مشاعرہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف ‘ کے عنوان سے ہونے والے مشاعرے میں چودہ شاعروں نے شرکت کی۔

ان کے بقول چار دنوں میں مشاعرے کا انتظامات کیے گئے اور احتجاجی مشاعرے میں شرکت کرنے والے تمام کے تمام شعراء کا تعلق ضلع وہاڑی سے تھا ۔

مشاعرے میں شرکت کرنے والے شاعروں کو اس بات کا پابند کیا گیا تھا کہ وہ صرف بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف اپنا کلام پیش کریں اور اس کے علاوہ کسی دوسرے موضوع پر انہیں شعر پڑھنے کی اجازت نہیں تھی۔

بجلی کی لوڈشڈنگ کے خلاف ہونے والے احتجاجی مشاعرے میں شعراء نے اردو اور پنجابی دونوں زبانوں میں اپنا کلام پیش کیا۔

منتظمین کے مطابق احتجاجی مشاعرے کے دوران لوڈشڈنگ کی وجہ سے بجلی بند رہی اور شعرا نے ہاتھ والے پنکھے استعمال کیے۔

مقامی صحافی گلزار بیگ نے بی بی سی کو بتایا کہ گزشتہ دنوں ہونے بجلی کی لوڈشڈنگ کے خلاف ہونے والے احتجاج کے دوران مظاہرین نے بجلی فراہم کرنے والے ادارے کے دفتر کونقصان پہنچایا تھا اس کے علاوہ مظاہرہ نے مسلم لیگ نون کے رکن قومی اسمبلی تہمینہ دولتانہ کے دفتر پر بھی حملہ کیا تھا۔

اسی بارے میں