’میں امریکی صدر ابراہم لنکن کی طرح ہوں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

پاکستان کے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے پاکستان میں اقتدار پر فوجی قبضے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکی صدر ابراہم لنکن کی طرح ہیں جنہوں نے ملک بچانے کی خاطر آئین توڑا۔

یہ بات انہوں نے تیس جون کو امریکہ میں ایسپن آئیڈیاز فیسٹیول میں ایٹلانٹک میڈیا کمپنی کے مالک ڈیوڈ بریڈلی کو ایک انٹرویو میں کہی۔

انہوں نے کہا کہ وہ اگلے سال پاکستان واپس جا رہے ہیں تاکہ ناکام ریاست کی مدد کر سکیں۔

پاکستان میں اقتدار پر فوجی قبضے کا دفاع کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سویلین حکومت کی ناکامی کے باعث لوگ فوج کی جانب دیکھتے ہیں۔

’جب ریاست ناکامی کی جانب جا رہی ہوتی ہے تو لوگ ریاست کو بچانے کے لیے فوج کی جانب دیکھتے ہیں۔ ہماری مشکل یہ ہوتی ہے کہ ریاست کو بچاؤ تاکہ آئین کو بچا سکیں۔ بدقسمتی سے ریاست کو بچانے کے لیے فوج اقتدار پر قبضہ کرتی ہے تاکہ آئین کو بچا سکیں۔‘

سابق صدر پرویز مشرف نے کہا ’یہی خیالات امریکی صدر ابراہم لنکن کے بھی تھے۔ مجھے معلوم ہے کہ انہوں نے آئین کی خلاف ورزی کی تاکہ ریاست کو بچا سکیں اور اس طرح آئین کو بچا سکیں۔ اور یہی مشکل پاکستان کی رہی ہے۔‘

پرویز مشرف نے کہا کہ یہی مشکل آج کل فوج کے سامنے کھڑی ہے۔ ’ریاست تباہ ہو رہی ہے ۔۔۔ اور لوگ ملک کو بچانے کے لیے فوج کی جانب دیکھ رہے ہیں۔ آج کل کے بری فوج کے سربراہ کے لیے یہ ایک مشکل گھڑی ہے کہ آیا ہم ملک کو بچانے کے لیے غیر آئینی قدم اٹھائیں یا پھر آئین کی خلاف ورزی نہ کریں اور ملک کو تباہ ہونے دیا جائے۔‘

سابق صدر مشرف نے ایک موقع پر فخریہ انداز میں کہا کہ جلا وطنی کی زندگی بڑی پر آسائش ہے کیونکہ ان کو دنیا گھومنے کا موقع مل رہا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان کے لیے اپنی زندگی خطرے میں ڈال کر پاکستان واپس جانے کو تیار ہیں۔

ان سے جب سوال پوچھا گیا کہ ان کو پاکستان سے محبت ہے لیکن وہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں اور ملک واپسی پر ان کو قانونی خطرہ بھی ہے تو کیا یہ مشکل گھڑی نہیں ہے، تو سابق صدر نے جواب دیا ’میں لندن اور دبئی میں کافی خوش ہوں اور دنیا بھر سے لوگ مجھے لیکچرز کے لیے بلاتے ہیں۔ ‘

صدر مشرف نے سنہ دو ہزار ایک کے اس واقعے کا بھی ذکر کیا جب وہ سری لنکا سے واپس آ رہے تھے اور ان کے جہاز کو لینڈ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ اس واقعے کے بعد جنرل مشرف نے اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کا تختہ الٹ دیا۔ ’جب جہاز لینڈ کیا تو ملک کنٹرول میں تھا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ بطور صدر انہوں نے ایران پر دباؤ ڈالا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ امن کر لے اور اپنے ایٹمی پروگرام کو ترک کر دے۔

اسی بارے میں