نیٹو رسد: ’کافی تکنیکی مسائل حل ہو گئے ہیں‘

امریکی وزارتِ خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نیولینڈ نے کہا ہے کہ افغانستان میں تعینات اتحادی افواج کے لیے رسد کا راستہ کھولنے کے لیے کئی تکنیکی مسائل حل ہوگئے ہیں لیکن ان کے سیاسی پہلو پر بات چیت ہو رہی ہے۔

یہ بات انہوں نے پریس بریفنگ کے دوران کہی۔انہوں نے کہا کہ اس وقت تک پاکستان سے بات چیت ہوتی رہے گی جب تک اس کا حل نہیں نکل آتا۔

وزارتِ خارجہ کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ امریکی تکنیکی ٹیم ابھی بھی پاکستان میں موجود ہے۔ ’بہت سے تکنیکی مسائل حل ہو گئے ہیں لیکن ہم کو ان مسائل کے سیاسی تناظر پر بھی بات چیت کرتے رہنا چاہیے۔‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نائب وزیر خارجہ نائیڈز پاکستان میں تھے جہاں انہوں نے رسد کے راستے کھولنے کے لیے پاکستانی حکام سے بات چیت کی۔

’وہ پیر کی شام اسلام آباد سے واشنگٹن کے لیے روانہ ہوئے ہیں۔پاکستان کے ساتھ رسد کے راستے کھولنے کے علاوہ دیگر معاملات پر بھی مذاکرات ہوئے۔ اس وقت ان مذاکرات کے حوالے سے کوئی اعلان نہیں ہے۔‘

وکٹوریہ نے مزید کہا کہ ہفتے کے اختتام پر وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے بھی پاکستان کے نئے وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف سے فون پر بات کی تھی۔

یاد رہے کہ پچھلے سال چھبیس نومبر کو پاک افغان سرحدی چوکی سلالہ پر امریکی حملے میں چوبیس پاکستانی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔ اس حملے کے فوری بعد پاکستان نے افغانستان میں موجود بین الاقوامی افواج کے لیے پاکستان کے زمینی راستوں سے جانے والی رسد بند کردی تھی۔

اس حملے کے بعد پاکستان کی وفاقی کابینہ کی دفاعی کمیٹی نے فیصلے کیا تھا کہ جب تک امریکہ اس حملے پر معافی نہیں مانگتا اس وقت تک رسد نہ کھولی جائے۔ اس کے بعد پاکستان کی پارلیمان نے متفقہ قرارداد منظور کی جس میں معافی کا مطالبہ کیا گیا۔

دوسری جانب امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی اور برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے پاکستانی اعلیٰ سکیورٹی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ رسد کے راستے کھولنے کا مسئلہ پاکستانی اور امریکی حکام جلد ہی حل کر لیں گے اور رسد دوبارہ جلد کھل جائے گی۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ پر یہ خبریں بھی ہیں کہ وزیر اعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف نے منگل کی شام کابینہ کی دفاعی کونسل کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے سرکاری ٹی وی پی ٹی وی کے مطابق کابینہ کی دفاعی کونسل کا اجلاس پیر کو طلب کر لیا گیا ہے جس میں وزیرِ اعظم کے علاوہ مسلح افواج کے سربراہان بھی شرکت کریں گے۔ اجلاس میں پاک امریکہ تعلقات سمیت خطے میں صورتِ حال کا جائزہ لیا جائے گا۔

واشنگٹن میں امریکی وزارتِ دفاع نے کانگریس کی دفاعی کمیٹی کو ایک خط میں لکھا ہے کہ دفاعی بجٹ میں مختص رقم کو پاکستان کی جانب سے رسد کے راستے بند کرنے کے باعث تیل پر ہونے والے اضافی خرچے کے لیے جاری کی جائے۔

پینٹاگون کے ترجمان کیپٹن جان کربی نے پیر کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی جانب سے رسد کے راستے بند کرنے کی وجہ سے سامان کی ترسیل وسط ایشیائی ممالک سے ہو رہی ہے اور اس پر دو اعشاریہ ایک بلین ڈالر کا اضافی خرچہ ہوا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ اس کے علاوہ خلیج میں ایک اور طیارہ بردار جہاز بھیجنے کی وجہ سے بھی اضافی خرچہ ہوا ہے۔

اسی بارے میں