ہجوم نے سرعام زندہ جلا دیا

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں بہاولپور کے نواحی علاقے احمد پور شرقیہ میں مشتعل مظاہرین نے مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن کی مبینہ بے حرمتی کے الزام میں ایک شخص کو چوراہے میں پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی۔

عینی شاہدوں کے مطابق پچاس سالہ شخص چیخ و پکار کرتا رہا لیکن لوگ تماشا دیکھتے ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس شخص نے منگل کی شام چنی گوٹھ چوک میں مبینہ طور پر سرعام قرآن کو نذر آتش کیا تھا جس پر لوگوں نے اس کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا تھا۔

تھانہ چنی گوٹھ کے محرر محمد عارف نے بی بی سی کے نامہ نگار علی سلمان کو ٹیلی فون پر بتایا کہ وہ تھانے سے کوئی سو فٹ دور تھے جب پولیس اہلکاروں نے انہیں اپنی تحویل میں لے کر حوالات میں بند کر دیا۔

ان کے بقول ابھی پوچھ گچھ بھی نہیں ہو پائی تھی کہ چار سے پانچ ہزار مقامی لوگوں کے ہجوم نے تھانے پر حملہ کر دیا۔

تھانے کے ایک حصے کو آگ لگا دی اور ڈی ایس پی کی گاڑی سمیت چار گاڑیوں کو نذر آتش کیا۔

جواب میں پولیس نے آنسو گیس چلا کر اور ہوائی فائرنگ کر کے خود کو بچایا لیکن اس کے باوجود چار پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔

حملہ آوروں نے حوالات توڑ کر ملزم کو نکالا اور تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے اسے موضع چنی گوٹھ چوک کے اسی مقام پر لائے جہاں مبینہ طور پر انہوں نے قرآن کو نذر آتش کیا تھا۔

مشتعل مظاہرین نے ان پر مٹی کا تیل چھڑک اور لکڑیاں پھینک کر آگ لگا دی اور کھڑے تماشا دیکھتے رہے۔

جب ان کی لاش جل کر خاکستر ہوگئی تو اس کے بعد پولیس نے باقیات کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوا دیا۔

تھانے کے محرر محمد عارف نے کہا کہ مشتعل مظاہرین نے تھانے سے ملحقہ ایک پولیس ملازم کے گھر کو بھی آگ لگائی تھی جس میں پولیس ملازم کی بیٹی کا جہیز کا سامان اور قرآن کے دو نسخے جل گئے۔

پولیس کے مطابق تھانے کی پولیس نے ابھی تک صرف ہلاک ہونے والے نامعلوم شخص کے خلاف قرآن پاک کی بے حرمتی کے الزام میں دو سو پچانوے بی کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔

پولیس کے مطابق ابھی تک مشتعل مظاہرین کے خلاف نہ تو کوئی مقدمہ درج کیا گیا ہے اور نہ ہی کوئی کارروائی عمل میں آئی ہے۔

پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والے شخص کی کوئی شناخت نہیں ہو سکی لیکن بظاہر وہ ذہنی طور پر معذور اور ملنگ ٹائپ شخص معلوم ہوتا ہے۔

ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اسی بارے میں