ڈاکٹروں کی ہڑتال،حکومت کے لیے بڑا چیلینج

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ڈاکٹروں کا کام جان بچانا ہے جان لینا نہیں:سعید الہٰی

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں نوجوان ڈاکٹروں کی ہڑتال سے جہاں صوبے میں مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا رہا ہے وہیں یہ معاملہ صوبائی حکومت کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج ثابت ہوا ہے۔

نوجوان ڈاکٹروں کا تنخواہوں میں اضافے اور سروس سٹرکچر کے نفاذ کا مطالبہ بھی کوئی نیا مطالبہ نہیں اور ماضی میں بھی یہ ڈاکٹر ہسپتالوں میں کام کرنے کی جگہ سڑکوں پر دھرنا دیے دیکھے گئے ہیں۔

تاہم اس مرتبہ یہ معاملہ گمبھیر صورتحال اختیار کر گیا اور جہاں ڈاکٹر ہڑتال ختم کرنے پر آمادہ دکھائی نہ دیے وہیں حکومت نے بھی سخت مؤقف اپناتے ہوئے ان کے خلاف پولیس کا استعمال کیا اور درجنوں ڈاکٹروں کو گرفتار کیا گیا۔

یہی نہیں بلکہ حکومت کی جانب سے مختلف اخبارات میں اشتہارات کے ذریعے نہ صرف ڈاکٹروں کو ان کا حلف یاد دلایا گیا بلکہ ان کے والدین پر بھی زور ڈالا گیا کہ وہ اپنی اولاد کو سمجھائیں اور غیرقانونی سرگرمیوں سے باز رکھیں۔

اس سلسلے میں پنجاب حکومت کے پارلیمانی سیکرٹری برائے صحت سعید الہیٰ کا کہنا ہے کہ حکومت نے اس سارے معاملے کو بڑے ہمدردانہ طریقے پر حل کرنے کی کوشش کی مگر اس کو ان کی کمزوری سمجھا گیا۔

انہوں نے کہا کہ وزیرِاعلیٰ نے ڈاکٹروں کے ساتھ اپنی ملاقات میں یہ پیغام واضح طور پر دیا کہ ’ڈاکٹروں کا کام جان بچانا ہے جان لینا نہیں‘۔

بی بی سی کے نامہ نگار طاہر عمران سے بات کرتے ہوئے پارلیمانی سیکرٹری کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر اْن کو شروع سے دھوکہ دیتے رہے جس کے باوجود ان کے حکومت نیک نیتی سے مذاکرات میں شامل رہی۔ سعید الہیٰ صاحب نے کہا کہ ہڑتال کرنے والے ڈاکٹروں نے اپنے ایسے ساتھیوں کو بھی ہراساں کیا جو اپنا کام جاری رکھنا چاہتے تھے۔

انہوں نے کہا اب بھی حکومت ہڑتالوں میں حصہ نہ لینے والے تمام ڈاکٹروں کا تحفظ کر رہی ہے جبکہ ہڑتالی ڈاکٹروں کو نہ صرف برطرف کر دیا جا ئے گا بلکہ انہیں بلیک لسٹ کر کے دنیا میں کہیں بھی صحت کے شعبہ میں کام نہیں کرنے دیا جائے گا۔

اس سلسلے میں نوجوان ڈاکٹروں کی تنظیم کے رہنما ڈاکٹر رائے احمد کا کہنا تھا کہ ان کی تنظیم نے تمام وہ ذرائع استعمال کیے جن سے مسائل کا حل بغیر محاذ آرائی کے نکل سکے مگر سپریم کورٹ کے فیصلہ کے باوجود ان کے مسائل حل نہیں ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے آخری دم تک علامتی ہڑتال جاری رکھی تاکہ پیچیدہ امراض کا شکار مریضوں کو نقصان نہ پہچے لیکن جب پولیس کے ذریعہ ان کی خلاف کاروائی کی گئی تب ان کے پاس کو ئی اور راستہ نہیں تھا۔

ڈاکٹر احمد نے سوال کیا کہ ’اگر لیکچرار کو نوکری کے آغاز سے ہی اٹھارہواں گریڈ دیا جا سکتا ہے تو ڈاکٹروں کو کیوں نہیں؟‘

ریٹائرڈ بیوروکریٹ کنور ادریس احمد اس سارے معاملے میں سرکاری ملازمین میں یونین بازی کے فروغ کو ایک غلط مثال کے طور پر دیکھتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’سرکاری ملازمین میں ٹریڈ یونین ازم ایک بہت غلط روش ہے اور حکومت پنجاب کو کسی صورت میں بھی ہڑتالی ڈاکٹروں کے ساتھ مذاکرات اور لین دین نہیں کرنا چاہیے تھا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ڈاکٹری کا شعبہ بنیادی خدمات کے زمرے میں آتا ہے خاص طور پر سرکاری ڈاکٹر۔ اس طرح بنیادی خدمت کے اس شعبہ میں ٹریڈ یونینوں کی طرز پر تنظیموں کا ہونا اور کام کرنا ایک بہت خطرناک طرزعمل ہے‘۔

ان کے مطابق ’سوچیں کل اگر پولیس والے اس طرح کی ہڑتال پر جانے کا فیصلہ کرلیں تو کیا حکومت ان سے بھی مذاکرات اور لین دین کرے گی۔ ان کے مطابق حکومت کے ملازمین اور صنعتی ملازمین میں بہت فرق ہوتا ہے‘۔