توہین عدالت، نئے قانون کے مسودے کی منظوری

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption توہین عدالت کے اس قانون کا مقصد عدلیہ پر ضابطہ قائم کرنا نہیں ہے: وزیر اطلاعات

پاکستان کی وفاقی کابینہ نے توہین عدالت کے نئے قانون کے مسودے کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت وزیراعظم، وزیراعلیٰ، وفاقی اور صوبائی وزرا کے خلاف سرکاری امور نمٹانے سے متعلق توہین عدالت کے تحت کارروائی نہیں ہو سکے گی۔

بدھ کو وفاقی وزیر اطلاعات قمر الزمان کائرہ نے کابینہ کے اجلاس کے بعد صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس قانون کا مقصد عدلیہ پر قدغن لگانا نہیں بلکہ توہین عدالت کے قانون کے متعلق ابہام ختم کرنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سنہ دو ہزار تین میں توہین عدالت کا قانون بنانے کے لیے آرڈیننس جاری کیا گیا، جس کو سترویں آئینی ترمیم کے ذریعے تحفظ دیا گیا۔لیکن سنہ دو ہزار چار میں ایک اور توہین عدالت کا قانون بنایا گیا۔ ایسی صورتحال کے بارے میں سپریم کورٹ میں وضاحت کے لیے ایک مقدمہ دائر ہوا جس پر سولہ ججوں نے سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا اور آج تک نہیں سنایا گیا۔

بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق قمر الزمان کائرہ نے بتایا کہ ایسے میں توہین عدالت کے قانون کے بارے میں وکلا کی رائے منقسم ہیں۔ ان کے بقول کچھ وکیل کہتے ہیں کہ توہین عدالت کا قانون موجود نہیں اور کچھ کا کہنا ہے کہ توہین عدالت کا قانون موجود ہے۔

ایک سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے بتایا کہ آئین کی شق دو سو اڑتالیس کی ذیلی شق ایک کے مطابق وزیراعظم، وزیر اعلیٰ اور وزرا کو استثنیٰ حاصل ہے اس لیے توہین عدالت کے نئے قانون کے مسودے میں یہ بات شامل کی جا رہی ہے کہ ان کے خلاف توہین عدالت کا قانون لاگو نہیں ہوگا۔

ان کے بقول نئے مسودے میں مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نواز شریف کے دور میں متعارف کردہ اپیل کے بارے میں شق بھی شامل ہوگی۔

وزیر اطلاعات نے تو میاں نواز شریف کی متعارف کردہ شق کی تفصیل سے وضاحت نہیں کی صرف اتنا بتایا کہ اپیل دائر ہونے کے بعد سزا معطل ہوگی اور جب تک اپیل کا فیصلہ آئے اس پر عملدرآمد نہیں ہوگا۔

واضح رہے کہ سابق چیف جسٹس سجاد علی شاہ نے بطور وزیراعظم میاں نواز شریف کو توہین عدالت کے مقدمے میں طلب کیا تھا تو اس وقت کی حکومت نے توہین عدالت کے قانون میں یہ ترمیم کی تھی کہ اپیل دائر ہوتے ہی سزا از خود معطل تصور ہوگی۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ توہین عدالت کے اس قانون کا مقصد عدلیہ پر ضابطہ قائم کرنا نہیں ہے بلکہ قانونی ابہام دور کرنا اور آئین کے مطابق عمل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد عدلیہ سے ٹکراؤ پیدا کرنا نہیں ہے بلکہ اداروں کو مضبوط کرنا ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر پارلیمان نے یہ مسودا منظور کر لیا تو پھر عدلیہ اسے کالعدم قرار دے گی تو انہوں نے سوالیہ انداز میں کہا کہ کیا پھر پارلیمان قانون سازی نہ کرے؟

اسی بارے میں