’پارٹی سے اختلافات ہیں مگر الگ نہیں ہوا‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

صدر آصف زرداری کے سیاسی مشیر اور پیپلز پارٹی کراچی کے صدر کے عہدے سے استعفیٰ دینے والے فیصل رضا عابدی کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں کے حق میں فیصلے دینے کی وجہ سے ان کا پی سی او ججوں سے اختلاف ہے۔

بی بی سی سے گفتگو میں فیصل رضا عابدی نے کہا کہ پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کے بارے میں ان کا ہمیشہ موقف رہا ہے کہ یہ کبھی آزاد عدلیہ کا حصہ نہیں بن سکتے۔ باقی تمام ججوں سے میرا کوئی اختلاف نہیں تاہم یہ اختلاف اس وقت شدید ہوا جب باون پی سی او ججز کو جوڈیشل کونسل میں ان کا ریفرنس بھیجے بغیر نکال دیا گیا۔

’میں نے پارٹی میں آواز اٹھائی کہ یا تو اِن ججوں کو بھی فارغ کیا جائے یا پھر ان باون کو بھی واپس لایا جائے تاہم پارٹی نے ان ججوں کی جانب نرم رویہ رکھا اور یہی رویہ میری اور پارٹی کے درمیان بنیادی اختلاف کی وجہ بنا۔‘

فیصل رضا عابدی نے کہا کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹننٹ جنرل احمد شجاع پاشا نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ فوج نے نو سو بائیس طالبان شدت پسند گرفتار کیے لیکن جب میں نے ان سے پوچھا کہ ان کا کیا ہوا، تو جنرل پاشا نے کہا کہ سب عدالتوں سے چھوٹ گئے۔ میرا موقف ہے کہ جو طالبان رہا کیے گئے ان کو گرفتار کر کے ان پر آزادانہ مقدمات چلائے جائیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ ملک میں شدت پسندی تو دس برس سے جاری ہے جبکہ ان کی پارٹی ساڑھے چار برس سے حکومت کر رہی ہے، آپ اتنی دیر تک عہدے پر رہے اب اچانک استعفیٰ کیوں دیا؟

فیصل رضا عابدی نے کہا کہ تمام مدت تک وہ یہی آواز اٹھاتے رہے مجھے پارٹی کے اندر بھی مسلسل تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ خواجہ شریف قتل سازش کیس اور وکلاء تشدد کیس کے دونوں کمیشنز کی رپورٹ ان ججوں کے پاس پڑی ہے اور وہ اس پر فیصلے نہیں دے رہے۔

فیصل رضا عابدی نے کہا کہ وہ اب بھی پارٹی کا حصّہ ہیں، الگ نہیں ہوئے۔ جن عہدوں سے استعفیٰ دیا ہے وہ مددگار اور تنظیمی نوعیت کے ہیں کوئی انتظامی عہدہ نہیں، اس لیے انہیں استعفیٰ دے کر بھی کوئی فرق نہیں پڑا۔

اس سوال پر کہ بعض حلقوں میں چہ مگوئیاں ہیں کہ پارٹی نے آپ کو نکالا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ اگر نکالا گیا ہے تو آج (جمعرات پانچ جولائی) کو پارٹی کی مرکزی کور کمیٹی کا اجلاس ہے وہ اس میں مدعو ہیں۔ اگر وہ اجلاس میں شریک ہوئے تو ثابت ہوجائے گا کہ انہوں نے ذاتی طور پر استعفیٰ دیا۔

انہوں نے کہا کہ وہ بے نظیر بھٹو کے جیالے ہیں جو پی سی او ججوں کی بحالی کی شدید مخالف تھیں۔ جب انہیں یاد کروایا گیا کہ بے نظیر بھٹو نے خود کہا تھا کہ وہ چیف جسٹس کو بحال کروائیں گی، ان کے گھر پر پاکستان کا پرچم لہرائیں گی تو اس پر فیصل رضا عابدی نے کہا وہ کلپ بارہ نومبر کا ہے بیس نومبر کے بعد جج سیاست میں ملوث ہوگئے۔ پاکستان واحد ملک ہے جہاں ججز ہڑتال کرتے ہیں سیاسی جماعتوں کو بائیکاٹ پر راغب کرتے اور سیاسی فیصلے دیتے ہیں۔