راستے کھول دو: رضا جعفری کے افسانے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

نام کتاب: راستے کھول دو

مصنف: رضا جعفری

صفحات: 192

قیمت: 300 روپے

ناشر: الحمد پبلیکیشنز، کراچی

یہ رضا جعفری کے ان افسانوں کا انتخاب ہے جو انھوں نے 1966 سے2011 تک کے پچھلے پینتالیس برسوں کے درمیان لکھے۔ اس انتخاب میں ستائیس افسانے ہیں اور ایک مضمون جو انھوں نے مشہور ترقی پسند شاعر علی سردار جعفری پر لکھا ہے۔ علی سردار جعفری ان کے ماموں تھے۔

وہ اردو اور ہندی دونوں زبانوں میں لکھتے ہیں اور ان کے یہ افسانے انڈیا میں نکلنے والے ’آج کل‘،’نیادور‘، ’شمع، دہلی‘، ’یوجنا‘،’گفتگو‘، ’بلٹز، اردو‘، ’ کتاب‘، ’ روبی‘ اور ’بانو‘ وغیرہ میں شائع ہوتے رہے ہیں۔ ان رسائل و جرائد میں سے اکثر بڑی اشاعتوں والے ہیں۔

ان افسانوں کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان کے ذریعے نہ صرف انڈیا میں تقسیم کے بعد کی زندگی کی تصویریں سامنے آتی ہیں بلکہ تقسیم کے نتیجے میں بٹ جانے اور متاثر ہونے والے لوگوں کی زندگیاں بھی دکھائی دیتی ہیں۔

ایک اور اہم پہلو ان افسانوں کا ان خاندانوں کی زندگیاں ہیں جن کے بچے بہتر مستقبل اور زندگی کی تلاش میں انڈیا سے باہر چلے جاتے ہیں۔ لیکن زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تمام کی تمام کہانیاں زیادہ تر مسلمانوں اور ان کے خاندانوں کے گرد گھومتی ہیں۔ ان کا پیرایہ کیوں کہ سماجی حقیقت نگاری کا حامل ہے اس لیے یہ بات کچھ کھٹکتی بھی ہے اور ایک حقیقت کا اظہار بھی کرتی ہے۔

ایک اور بات یہ ہے کہ رضا جعفری کے افسانوں کی اکثریت کا تعلق درمیانے اور نچلے درمیانے طبقے سے ہے۔ اس انتخاب میں کم از کم، نہ تو نچلا طبقہ دکھائی دیتا ہے اور نہ ہی بالائی طبقہ۔ لیکن ان افسانوں سے یہ احساس ضرور ہوتا ہے کہ تقسیم کے دور میں انڈیا میں جو سماجی اتھل پُتھل پیدا ہوئی تھی اس نے اب تک وہ ٹھہراؤ حاصل نہیں کیا جو آزادی کی جد و جہد اور تقسیم کے دنوں سے پہلے موجود تھا۔

ان افسانوں کو پڑھتے ہوئے محسوس یہ ہوتا ہے کہ آزادی نے لوگوں کے دلوں اور دماغوں میں جو توقعات پیدا کی تھیں وہ نصف صدی سے زیادہ کا عرصہ گذرنے کے باوجود یقیناً بڑی حد تک پوری نہیں ہوئیں۔ اس عرصے میں فائدہ اٹھانے والوں نے ضرور فائدے اٹھائے ہیں اور بنے ہیں کیوں کہ ایسے زمانے ایسے ہی لوگوں کے لیے انتہائی سازگار ہوتے ہیں۔ لیکن رضا جعفری کے افسانوں کا ایسے لوگوں سے کوئی علاقہ نہیں۔ اُن کے افسانے ان لوگوں کے بارے میں ہیں جو ٹوٹے اور بکھرے ہیں۔

ان افسانوں کا ایک اور اہم پہلو وہ کردار ہیں جو عمر رسیدہ اور ضعیف ہیں۔ وہ گھریلوں عورتیں ہیں جن کے بچے جوان ہو کر اپنے اپنے گھروں اور اپنی اپنی منزلوں کو جاچکے ہیں اور اب ان کے دلوں میں اُن بچوں اور ان کے بچوں کی محبت بھی ہے اور موت کی دہلیز پر کھڑے شوہروں کی بیماریاں اور بے بسی بھی۔

’راستے کھول دو‘ کے عنوان سے لکھا جانے والا افسانہ جسے اس انتخاب کا نام بنایا گیا ہے، پاکستان اور انڈیا کے درمیان موجود اس صورتِ حال کی عکاسی کرتا ہے جس کا شکار دونوں ملکوں میں رہنے والے وہ لوگ ہے جو ان دونوں ملکوں میں آنا جانا چاہتے ہیں۔ ایسے لوگوں میں سے ان کے لیے تو یہ آنا جانا اس لیے اہم ہے کہ ان کے عزیز اور رشتے دار ادھر اور اُدھر میں بٹے ہیں لیکن ان لوگوں کو تو اور زیادہ مشکلات کا شکار ہونا پڑتا ہے جو اِن ملکوں اور اِن کے لوگوں کو دیکھنے کے لیے آنا جانا چاہتے ہیں۔

اس حوالے سے لگائی جانے والی پابندیوں سے کیا فائدہ حاصل ہوتا ہے؟ اس بارے میں پابندیاں لگانے والے آج تک کوئی خاطر خواہ جواز پیش نہیں کر سکے لیکن دونوں ملکوں کے شہریوں میں ایک دوسرے کے بارے میں جو جو خوف اور وسوسے پیدا کیے گئے ہیں ان کے اثرات کا ایک رخ رضا جعفری کے افسانے ’آئینے‘ میں دیکھا جا سکتا ہے۔ لیکن کیا یہ بات انتہائی مضحکہ خیز نہیں ہے کہ بھارت اور پاکستان کی نئی نسلیں اگر کسی ملک اور اس کے لوگوں کے بارے میں سب سے کم اور سب سے غلط جانتی ہیں تو وہ پاکستان اور اس کے شہری اور بھارت اور اس کے شہری ہیں؟

رضا جعفری کے یہ منتخب افسانے کم و بیش ایک ہی سطح کے ہیں سوائے ’دردِ لا دوا‘ کے جو انہوں نے 1976 میں لکھا تھا۔ مجھے یہ افسانہ رضا جعفری کی تخلیقی قدرت کے اعتبار سے زیادہ اچھا لگا ہے۔

باقی افسانوں میں ان کا انداز، اسلوب اور پیرایہ یہاں تک کہ زبان سے برتاؤ تک میں پینتالیس سال گذرنے کے باوجود کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ یہاں تک کہ ان کے موضوعات کا دائرہ تک نہیں پھیلا۔ ہو سکتا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہو کہ وہ ترقی پسندی کے ایک مخصوص اور بندھے لگے انداز سے وابستہ ہیں اور انھیں باقی دنیا سے کوئی دلچسپی نہیں۔ جو بھی ہو، ان کا یہ انتخاب افسانے پڑھنے والے عام قارئین کے لیے ضرور دلچسپی کا باعث ہو گا۔

اسی بارے میں