انسانی سمگلروں کے خلاف آپریشن، آٹھ گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption سنیچر کی صبح سے ہی چھاپے مارنے کا سلسلہ شروع کیا گیا

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ساحلی شہرگوادر میں انتظامیہ نے کارروائی کرتے ہوئے انسانی اسمگلنگ میں ملوث آٹھ افراد کوگرفتار کر لیا ہے۔

یہ کارروائی گذشتہ روز تربت میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ان اٹھارہ افراد کی ہلاکت کے بعد کی گئی ہے جو غیر قانونی طور پر ایران جا رہے تھے۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق گوادر کی انتظامیہ نے سنیچر کے روز شہر کے مختلف علاقوں میں انسانی اسمگلنگ میں ملوث افراد کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا ہے اور آخری اطلاعات تک آٹھ انسانی اسمگلر گرفتار ہوئے تھے۔

ڈپٹی کمشنر گوادر سہیل الرحمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسسٹنٹ کمشنر دوستین دشتی کی سربراہی میں لیویز اور پولیس کی مختلف ٹیمیں تشکیل دی گئیں جنہوں نے سنیچر کی صبح سے ہی گوادر کے مختلف علاقوں میں چھاپے مارنے کا سلسلہ شروع کیا جو رات گئے تک جاری تھا۔

ایک سوال کے جواب میں ڈی سی گوادر نے کہا کہ گرفتار ہونے والوں میں وہ شخص بھی شامل ہے جن کی سرپرستی میں ہلاک ہونے والے اٹھارہ افراد ایران جانے کی کوشش کر رہے تھے۔

ان کے مطابق گرفتار ہونے والے تمام مقامی باشندے ہیں جو کافی عرصے سے انسانی اسمگلنگ میں ملوث تھے۔

ایک سوال کے جواب میں ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ تربت کے واقعہ کے بعد ایران اور پاکستان کے سرحدی راستوں کی سخت ناکہ بندی کر دی گئی ہے اور امکان ہے کہ آئندہ چند دنوں میں مزید گرفتاریاں عمل میں آئیں گی۔

دوسری جانب محکمہ داخلہ کے ذرائع کے مطابق تربت کے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دی جا رہی ہے جو اس واقعہ سے متعلق رپورٹ حکومت کو پیش کرے گی۔

اسی بارے میں