’سنیچر سے ایمرجنسی وارڈز میں کام شروع کریں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption نوجوان ڈاکٹرز کم از کم صوبے کے تمام ہسپتالوں کی ایمرجنسیوں میں کام شروع کریں: لاہور ہائی کورٹ

لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب بھر کے نوجوان ڈاکٹروں کو حکم دیا ہے کہ وہ جزوی طور پر اپنی ہڑتال ختم کریں اور سنیچر کی صبح نو بجے ایمرجنسی وارڈز میں پہنچ کر اپنا کام شروع کریں۔

عدالت عالیہ نے پنجاب حکومت کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ ڈاکٹروں کو حراساں نہ کرے۔

لاہور سے بی بی سی کے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا ہے کہ عدالت ڈاکٹروں اور پنجاب حکومت کے تنازعے کو عدالت حل کرانے کی کوشش کرے گی۔

جمعہ کو نوجوان ڈاکٹروں عامر علی بندیشہ، ذیشان اور ناصر عباس نے عدالت میں پیش ہوکر کہا کہ حکومت پنجاب ان کے خلاف سخت کارروائی کررہی ہے، ان کے گھروں پر چھاپے مارے جارہے ہیں، انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور قتل کے مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی ہڑتال ختم کرنا چاہتے ہیں لیکن حکومت ایک کے بعد ایک اقدام کررہی ہے اور ایسی کوئی گنجائش نہیں چھوڑ رہی کہ وہ ہڑتال ختم کر پائیں۔

پاکستان میڈیکل اور ڈینٹل کونسل کے وکیل عبدالباسط نے کہا کہ نوجوان ڈاکٹروں کی تنظیم اور ان کی ہڑتال غیر قانونی ہے اور پی ایم ڈی سی کو ان کے خلاف کارروائی کی اجازت دی جائے جس پر عدالت نے حکومت پنجاب کو تمام کارروائی روکنے کا حکم دیا۔

سیکرٹری صحت نے کہا کہ ڈاکٹروں کے سروس سٹرکچر کے مطالبے پر کیمٹیاں بنا دی گئی ہیں اور نوجوان ڈاکٹروں کو کہا گیا تھا کہ وہ انسانی جانوں سے نہ کھیلیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ لیکن انہوں نے انتہا کردی خود تو ہڑتال کی اور ساتھ ہی ساتھ ان ڈاکٹروں دھمکانا شروع کردیا جو کام کرنا چاہتے تھے۔

سیکریٹری صحت نے کہا کہ حکومت نے چند ڈاکٹروں کو گرفتار کیا اور انہوں نے عہد کیا کہ وہ اب ہڑتال نہیں کریں گے لیکن جیل سے باہر نکل کر بھی وہ کام پر نہیں پہنچے۔ انہوں نے مذاکرات سے معاملہ حل کرنے کی ہرکوشش کو ناکام بنادیا۔

جسٹس اعجاز الحسن نے کہا کہ کہ جب دونوں فریق ہڑتال کا خاتمہ چاہتے ہیں تو پھر رکاوٹ کیا ہے؟ انہوں نے نوجوان ڈاکٹروں کو کہا کہ وہ اپنی ہڑتال ختم کردیں لیکن ڈاکٹروں نے کہا کہ وہ اپنی لیڈر شپ کے بغیر ایسا کوئی فیصلہ نہیں کرسکتے۔

عدالت نے انہیں حکم دیا کہ وہ کم از کم صوبے کے تمام ہسپتالوں کی ایمرجنسیوں میں کام شروع کریں۔

عدالت نے نوجوان ڈاکٹروں کے نمائندوں اور محکمہ صحت کے حکام کو کل دس بجے دوبارہ طلب کیا ہے۔ سیکرٹری صحت نے کہا کہ قتل کے مقدمات حکومت نے درج نہیں کرائے بلکہ ان لوگوں کے ورثا نے درج کرائے ہیں جن کے مریض ہلاک ہوئے۔

عدالت نے چار ڈاکٹروں کے خلاف درج قتل کے مقدمے کا مکمل ریکارڈ تفتیشی افسر اور چارملزموں کوعدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

اسی بارے میں