سب صدر اور گورنر ہیں

ڈاکٹروں کی ہڑتال کی فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پنجاب میں نوجوان ڈاکٹروں کی ہڑتال کے دوران مرنے والے مریضوں میں پندرہ ماہ کا بچہ فہد حسین بھی شامل ہے۔کیونکہ مشتعل ہڑتالی ڈاکٹروں نے مبینہ طور پر فہد حسین کی کلائی سے ڈرپ ٹیوب کی سوئی نکال کر پھینک دی۔

اس واقعے کے ملزم چار ڈاکٹروں کو اقدامِ قتل کی دفعہ تین سو دو کے تحت پکڑ لیا گیا ہے۔ تاہم ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں پر غفلت برتنے سے متعلق فردِ جرم تو لگ سکتی ہے۔ قتل کی دفعہ نہیں لگ سکتی اور غفلت کی فردِ جرم بھی ہیلتھ کیئر کمیشن کی تحقیقات کے بعد ہی عائد کی جاسکتی ہے۔چنانچہ ہڑتالی ڈاکٹروں نے اپنے چار ساتھیوں کے خلاف مقدمہ خارج کرنے اور انکی رہائی کا مطالبہ بھی چارٹر آف ڈیمانڈ میں شامل کرلیا ہے۔

ویسے تو پاکستانی آئین کے تحت صدر اور صوبائی گورنروں کو کسی بھی مقدمے اور سزا سے منصب پر رہتے ہوئے استسنٰی حاصل ہے۔لیکن عملاً اس ملک میں لاکھوں افراد ایسے ہیں جن تک قانون کے لمبے ہاتھ پہنچتے پہنچتے پولیو زدہ ہو جاتے ہیں۔

مثلاً کسی رکنِ پارلیمان و صوبائی اسمبلی کو سپیکر کی اجازت کے بغیر حراست میں نہیں لیا جاسکتا۔

کوئی بھی حاضر سروس فوجی اپنی اعلٰی قیادت کی اجازت کے بغیر گرفتار نہیں ہوسکتا یا اسے کسی سویلین عدالت میں پیش نہیں کیا جاسکتا۔اس کے خلاف فردِ جرم آرمی ایکٹ کے تحت قائم ہوسکتی ہے۔

فوجی عدالت ہی اسے سزا دے سکتی ہے یا بری کرسکتی ہے اور اس فیصلے کو کسی سویلین عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔البتہ کسی بھی سویلین کو آرمی ایکٹ کے تحت گرفتار کرکے اس کا کورٹ مارشل ہوسکتا ہے۔اور اس فیصلے کو بھی سویلین عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔

کسی بھی حاضر سروس جج کو سپریم جوڈیشل کونسل کی اجازت کے بغیر گرفتار نہیں کیا جاسکتا نا ہی اس پر مقدمہ قائم ہوسکتا ہے۔

کسی بھی حاضر سروس بیوروکریٹ کو کسی مقدمے میں گرفتار کرنے سے پہلے مجاز اتھارٹی کی اجازت لینی ضروری ہے۔

اگر کسی ٹرین ، بس یا ٹرک کے نیچے آکر کوئی کچلا جائے تو ڈرائیور پر غفلت سمیت دیگر دفعات تو عائد ہوسکتی ہیں لیکن تین سو دو کا مقدمہ فوری طور پر قائم نہیں ہوتا۔اسی طرح اگر کوئی شخص غیرت کے ضمن میں فوری اشتعال میں آ کر قتل کردے تو اس کے خلاف بھی جان بوجھ کر قتل کرنے کی فردِ جرم خال خال ہی لگتی ہے۔

اگر لاک اپ میں کوئی قیدی تشدد سے مرجائے یا مشکوک پولیس مقابلے میں مارا جائے تو ملزموں پر شاید ہی کبھی دفعہ تین سو دو کے تحت قتل کرنے کی فرد لاگو ہوئی ہو۔

اور جن پر جان بوجھ کر قتل کرنے کی دفعہ لگ بھی جائے تو بھی کیا ہوتا ہے ؟؟

آج تک توہینِ رسالت کے الزام میں جتنے لوگ بھی قتل ہوئے انکے کتنے مجرموں کو قتل کی سزا ملی اور جنہوں نے اقبال ِ جرم بھی کرلیا انہیں کتنی عدالتوں نے موت یا عمر قید کی سزا سنائی اور اگر کسی کو سزا سنائی بھی تو اس پر کتنا عمل ہوا۔

اب تک کتنے ڈاکٹروں ، خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں وغیرہ پر اقدامِ قتل کے مقدمات قائم ہوئے ۔ان میں سے کتنے مقدمات کے فیصلے ہوئے۔کتنوں کو سزا سنائی گئی اور کتنوں کی سزا پر عمل ہوا۔

کہنے کا مقصد یہ ہے کہ مقدمے ، گرفتاری اور سزا سے بچنے کے لیے محض صدر یا گورنر ہونا ضروری نہیں ۔اگر آپ کے پیچھے کچھ مؤثر لوگ یا تنظیم یا ادارہ ہے۔اگر آپ انصاف کو موم کی ناک بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو آپ بھی اپنے تئیں صدر اور گورنر ہیں۔لیکن اگر آپ تنِ تنہا اور بے وسیلہ ہیں تو پھر زرا کسی کے خلاف بغیر دھرنے ، گھیراؤ جلاؤ اور ماتم کے ایف آئی آر درج کروا کے ہی دکھا دیں۔انصاف کے ہاتھ آپ کو ایسے ایسے لمبے ہاتھ دکھائیں گے کہ عقل ٹھکانے آجائے گی۔

مگر یہ باریکیاں پندرہ ماہ کے فہد حسین کو کیا معلوم جو ڈرپ کی سوئی کھینچے جانے سےمرگیا۔۔۔اس کی بلا سے اب جو ہو سو ہو۔۔نا ہو تو نا ہو

اسی بارے میں