عوامی نیشنل پارٹی کی ریلی میں بم دھماکہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دھماکے میں ہلاک ہونے والوں میں ایک بچہ بھی شامل ہے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے نواحی علاقے میں عوامی نیشنل پارٹی کی ریلی میں ایک بم دھماکے میں چھ افراد ہلاک اور صوبائی صدر سمیت ایک درجن سے زائد زخمی ہوگئے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بم ایک سائیکل میں نصب کیا گیا تھا اور اسے ریموٹ کنٹرول سے اڑایا گیا۔

ہلاک ہونے والوں میں پارٹی کے ایک مقامی رہنماء پی ایس ایف کے نائب صدر ملک قاسم سمیت ایک بچہ بھی شامل ہے۔ ادھر صوبائی صدر اورنگزیب کاسی اور ان کی اہلیہ سمیت بارہ سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔ ہلاک و زخمیوں کو فوری طور پر سول ہسپتال اور کمبائنڈ ملٹری ہسپتال یعنی سی ایم ایچ کوئٹہ منتقل کردیا گیا جہاں بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

دھماکے سے تین گاڑیاں مکمل طور پر تباہ اور متعدد گاڑیوں اور قریبی دکانوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ بموں کو غیر فعال کرنے والی ٹیم کے مطابق بم دھماکے میں سات سے آٹھ کلوگرام دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا۔

بم دھماکے کے خلاف عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنوں نے ٹائر جلا کر احتجاجاً جناح روڈ اور باچا خان چوک کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کردیا جس کی وجہ سے شہر بھر میں ٹریفک جام ہو گئی اور شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ مشتعل افراد نے شہر کے مختلف علاقوں میں ہوائی فائرنگ بھی کی جس سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور بازار بند ہوگئے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنوں نے اس موقع پر انتظامیہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور مطالبہ کیا کہ بم دھماکے میں ملوث عناصر کو فوری طور پر گرفتار کر کے سخت سے سخت سزا دی جائے۔

دوسری جانب قلعہ سیف اللہ میں بھی عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنوں نے جلسے میں بم دھماکے کے خلاف احتجاجاً کوئٹہ ژوب قومی شاہراہ کو ٹریفک کے لیے بند کردیا جس کی وجہ سے قومی شاہراہ پر دونوں جانب گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں لگ گئیں اور مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

اسی بارے میں