’صحافیوں کی پسند تو ٹوئٹر ہی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان اور بھارت کے بارے میں کوئی تقریب ہو اور اس میں ویزوں کا ذکر نہ آئے ایسا کہاں ممکن ہے۔

کراچی میں جمعہ کو جب دو روزہ سوشل میڈیا میلے کا آغاز ہوا تو استقبالیہ کلمات میں میلے کی منتظم کی زبان پر بھی ویزہ مشکلات کی ہی کہانی تھی۔

ویزے کے مسئلے کے ساتھ نام جڑتا ہے وزارتِ داخلہ کا جس کے نگران وزیراعظم کے مشیر داخلہ رحمان ملک خود سوشل میڈیا پر خاصے مقبول ہیں۔

اس سارے پروگرام کی روحِ رواں سبین محمود نے بھی افتتاحی سیشن کا آغاز بھارتی وفد کے ویزوں اور رحمان ملک سے جڑی ایک کہانی سے کیا جس کے آخر میں غیر متوقع طور پر وزیرِ داخلہ ایک ’مسیحا‘ کے طور پر سامنے آئے۔

رحمان ملک کی جانب سے آخری لمحات میں ویزوں کی منظوری نہ صرف ان کے لیے شرکاء کی جانب سے دادوتحسین کی وجہ بنی بلکہ ٹوئٹر پر تھینک یو رحمان ملک کی مہم بھی چل پڑی۔

نو ارکان پر مشتمل بھارتی وفد تو اس پروگرام کی رونق بڑھانے کے لیے آن پہنچا لیکن وہ بھارتی مہمان جس کا سب کو انتظار تھا ویزوں میں تاخیر کی وجہ سے شریکِ محفل نہ ہو سکا۔

بھارتی صحافی برکھا دت کا نام نہ صرف بھارت سے آنے والوں میں سب سے جانا پہچانا تھا بلکہ وہ دن کے پہلے سیشن کی مقررہ بھی تھیں۔

برکھا کو سکائیپ کے ذریعے پروگرام میں شامل کرنے کی کوششیں شروع ہوگئیں جو ٹیکنالوجی کے اس جدید دور میں بھی ناکام رہیں اور کبھی صورت دکھائی دی تو آواز نہ تھی اور پھر آخر میں آواز بھی چلی گئی۔

منتظمین نے فوری طور پر پہلے کی جگہ دوسرا سیشن پاکستان اور بھارت میں اعتماد کے فقدان میں کمی شروع کروا دیا۔ اس سیشن کی میزبانی تو سینیئر صحافی اور سماجی کارکن بینا سرور کے ہاتھ آئی لیکن برکھا کی کمی یہاں بھی محسوس ہوتی رہی۔

ان دو نسبتاً خشک سیشنز کے بعد ایک سیشن ایسا آیا جس نے ہال میں بیٹھے افراد کے لبوں پر مسکراہٹیں بکھیر دیں۔

یہ گفتگو انٹرنیٹ پر وائرل ویڈیوز کے بارے میں تھی اور اس کے مقررین میں کچھ عرصہ قبل ’آلو انڈے‘ نامی ویڈیو سے شہرت حاصل کرنے والے علی آفتاب اور آج کل سوشل میڈیا پر مقبول ’وڈیرے کا بیٹا‘ کے خالق علی گل پیر تھے۔

علی گل پیر جہاں یہ کہہ کر سب کو سندھیوں کے دہشتگردی سے دور رہنے کا یہ یقین دلاتے نظر آئے کہ دنیا میں کبھی اسامہ بن چانڈیو نہیں ہو سکتا وہیں علی آفتاب نے فوج کو طنز کا نشانہ بنایا اور کہا کہ جو ایک گانے سے ڈرتے ہیں وہ کیسے کسی سے لڑ سکتے ہیں۔

کھانے کے وقفے کے بعد ’مایا خان ٹیک ڈاؤن: ان پریز آف سلیکٹوازم‘ کے نام سے منعقدہ سیشن دن کا مقبول ترین سیشن رہا اور اس وقت ہونے والے دیگر سیشنز میں خال خال ہی لوگ موجود تھے۔

اس گفتگو میں یہ اتفاقِ رائے دیکھا گیا کہ سوشل میڈیا پر بھی ضابطۂ اخلاق لاگو ہونا چاہیے تاکہ اس میڈیم کو ذاتی رنجش یا مخالفت کے لیے استعمال نہ کیا جا سکے۔

اسی سیشن کے دوران بینا سرور نے بتایا کہ پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کے ریٹنگز کا پیمانہ ملک بھر میں صرف چھ سو گھرانے ہیں جن میں سے تین سو کراچی میں ہیں جبکہ بلوچستان میں ایک بھی ایسا گھرانہ نہیں جس کی پسند یا ناپسند کو پروگرام کی مقبولیت کا پیمانہ قرار دیا جا سکے۔

سیشن میں سماجی کارکن اور کمیٹی کی رکن ماروی سرمد میڈیا کے خلاف عوامی شکایات کے زبانی اظہار اور متعلقہ محکمے یعنی پیمرا سے رابطہ نہ کرنے پر شاکی نظر آئیں۔

ان کے مطابق گزشتہ چار برس میں پیمرا کو پروگرام کے مواد کے بارے میں صرف دو ہی شکایات ملیں جن میں سے ایک بھارتی اداکارہ قطرینہ کیف کی برہنہ ٹانگوں کے بارے میں تھی تو دوسرے شکایت کنندہ کو اعتراض تھا کہ اشتہار میں دکھائی دینے والی خاتون کا ساتھی مرد سے کیا رشتہ دکھایا گیا ہے۔

سوشل میڈیا کے بارے میں پہلے دن کا سب سے معلوماتی سیشن بھارتی نیوز ویب سائیٹ ’تہلکہ ڈاٹ کام‘ کی مدیر کرونا جان کی بات چیت رہی۔

کرونا نے کہا کہ ٹوئٹر جیسا سوشل میڈیا ٹول سست صحافت کو فروغ دے رہا ہے اور آج کا سوشل میڈیا خبر کی تصدیق یا دوسری جانب کا موقف لیے بغیر اسے ہی حتمی ذریعہ سمجھ بیٹھا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہٹوئٹر صحافیوں کے لیے ایک دو دھاری تلوار کی مانند ہے جو دھیان سے استعمال نہ کرنے پر خود ان کا گلا بھی کاٹ سکتی ہے۔

کرونا یہ تنبیہ کرتی نظر آئیں کہ صحافیوں کوٹوئٹر سے حاصل ہونے والی معلومات کو چھان پھٹک کر ہی استعمال کرنا چاہیے کیونکہ آج کے دور میں مفت میں کچھ نہیں ملتا۔

ٹوئیٹر کے استعمال پر کرونا کی بحث تو پہلے دن ختم ہوئی لیکن دن بھر میں ایک بات ضرور سامنے آئی کہ فیس بک چاہے دنیا کی مقبول ترین سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائیٹ کیوں نہ ہو صحافیوں اور شہری صحافیوں کی پسند شاید ٹوئٹر ہی ہے۔

اسی بارے میں