بلوچستان ہڑتال: کوئٹہ میں فائرنگ، دس افراد زخمی

عوامی نیشنل پارٹی کی اپیل پر آج کوئٹہ سمیت صوبے کے دیگربڑے شہروں میں شٹرڈاون ہڑتال ہوئی ہے اور اس موقع پر کوئٹہ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے دس افراد زخمی ہوئے۔

ہڑتال جمعہ کو کچلاک میں اے این پی کے جلسے میں ہونے والے بم دھماکے کے خلاف کی گئی تھی جس میں آٹھ افراد ہلاک اور بائیس زخمی ہوئے تھے۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق سنیچر کو کوئٹہ، پشین، چمن ، ژوب قلعہ سیف اللہ ، کچلاک ، مسلم باغ، ہرنائی اور قلعہ سیف اللہ کے علاوہ صوبے کے دیگر شہروں میں مکمل شٹرڈاؤن ہڑتال رہی۔

کوئٹہ میں ہڑتال کے موقع پر تمام دکانیں اور کاروباری مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک بھی قدرے کم تھا۔ تاہم حکومت کی جانب سے سخت حفاظتی انتظامات ہونے کے باوجود نامعلو م افراد کی فائرنگ سے اے این پی کے دس کارکن زخمی ہوئے۔

واقع آج صبح اس وقت پیش آیا جب اے این پی کارکن ڈبل روڈ پر دکانیں بندکرانے کی کوشش کر رہے تھے۔ زخمیوں کو فوری طور پرسول ہپستال منتقل کردیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر بتائی ہے۔ فائرنگ کے بعد ملزمان موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے اور پولیس نے مقدمہ درج کرکے ان کی تلاش شروع کردی ہے۔

ہڑتال کی کال عوامی نیشنل پارٹی نے جمعہ کو کچلاک شہر میں پارٹی کے جلسے میں ہونے والے ریمورٹ کنٹرول بم دھماکے خلاف دیاگیا تھا۔ جس میں پشتون اسٹوڈنس فیڈریشن کے نائب صدر ملک قاسم سمیت آٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ جبکہ اے این پی کے صوبائی صدر اورنگ زیب کاسی اور ان کی اہلیہ سمیت بائیس افراد زخمی ہوئے تھے۔

دھماکے پر مختلف سیاسی ومذھبی جماعتوں نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے آج ہونے والے ہڑتال کی مکمل حمایت کی تھی۔

ان جماعتوں نے حکومت سے دھماکے میں ملوث افراد کی فوری گرفتاری کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

دوسری جانب کچلاک پولیس نے دھماکے کے بعد نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہےلیکن تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی اور نہ ہی کسی نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

اسی بارے میں