’نیٹو سپلائی کی بحالی ملکی سلامتی کے خلاف‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

مذہبی جماعتوں کے اتحاد دفاع پاکستان کونسل کے قائدین نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے نیٹو سپلائی کی دوبارہ بحالی کے فیصلے کوعوام مسترد کر چکی ہے۔

دفاع پاکستان کونسل کے مطابق نیٹو سپلائی کی بحالی کا فیصلہ ملکی سلامتی کے خلاف ہے اور اس کو روکنے کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔

افغانستان سے متّصل پاکستان کے سرحدی شہر چمن میں دفاع پاکستان کونسل نےاتوار کی شام دھرنا دیا۔

احتجاجی دھرنے میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

دھرنے سے جمعیت علماء اسلام س کے مراکزی صدر مولاناسمیع الحق، جمیعت علماء اسلام نظریاتی کے صوبائی امیر مولانا حنیف اور اورنگزیب فاروقی سمیت دیگر مذہبی رہنماؤں نے خطاب کیا۔

نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق مقررین نے نیٹوسپلائی کے فیصلے کو پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام کے خلاف سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ جمہوری طریقے سے اس کی بھرپور مخالف جاری رکھیں گے۔

دھرنے کے موقع پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مولاناسمیع الحق نے کہا کہ چمن میں دھرنے کا مقصد افغانستان میں طالبان سے اظہار یکجہتی کرنا تھا۔

مولاناسمیع الحق نے کہا کہ ہم نے نیٹو کو یہ پیغام پہنچانا تھا کہ اگر ہم چاہتے تو لاکھوں کی تعداد میں افغانستان میں داخل ہو سکے تھے لیکن ہم پر امن جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں اور توقع رکھتے ہیں کے نیٹو اورامریکی افواج افغانستان سے نکل جائیں تاکہ اس خطے میں دوبارہ امن کے لیے راہ ہموار ہو سکے۔

اس سے قبل جب دفاع پاکستان کونسل کی ریلی چمن پہنچنے پر جمعیت نظریاتی کے صوبائی صدر مولانا حنیف نے ان کا استقبال کیا۔

یہ ریلی کل کوئٹہ سے روانہ ہوئی تھی اور راستے میں بہت سے لوگ میں ریلی میں شامل ہوتے گئے۔

دھرنے کے موقع پر کسی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے حکومت اور مذہبی جماعتوں کے رضاکاروں نے سخت حفاظتی انتظامات کیے تھے۔

اس کےساتھ چمن کی ضلعی انتظامیہ نے نہ صرف مختلف مقامات پر نیٹو کنٹینرز روک لیے گئے بلکہ افغانستان سے آنے والے کنیٹرز کے لیے بھی سرحد کو بند کردیا تھا۔

اُدھر پاکستان کے تجارتی مرکز کراچی میں نیٹو سپلائی کی بحالی کے خلاف جماعت اسلامی نے ایک ریلی منعقد کی جس کی سربراہی جماعت کے امیر منور حسن نے کی۔

کراچی سے نامہ نگار ارمان صابر کے مطابق ریلی سے جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں نیٹو افواج کو رسد کی ترسیل بحال کرنا قومی مفاد کے خلاف ہے اور یہ پارلیمان کی قرارداد کے بھی منافی ہے۔

جماعت اسلامی نے یہ ریلی بولٹن مارکیٹ سے کیماڑی تک نکالی جبکہ ریلی کے راستوں پر سخت سکیورٹی تعینات کی گئی تھی۔ جماعت اسلامی نے پولیس پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے جماعت کے پندرہ کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے۔

اسی بارے میں