خیبر: مکان پر گولہ گرنے سے چار ہلاکتیں

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ میں سکیورٹی فورسز کی گزشتہ دو سال سے شدت پسندوں کے خلاف غیر اعلانیہ کارروائی جاری ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں حکام کے مطابق ایک مکان پر گولہ گرنے سے تین بچوں سمیت چار افراد ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔

خیبر ایجنسی میں پولیٹکل انتظامیہ کے ایک افسر نے بی بی سی کے نامہ نگار دلاورخان وزیر کو بتایا کہ اتوار کی صُبح تحصیل باڑہ اور پشاور کے سرحدی کے علاقے شخان میں دولت میر نامی مقامی قبائلی کے مکان پر نامعلوم سمت سے آنے والا مارٹر کا ایک گولہ گرا۔

اس واقعے میں تین بچوں سمیت چار افراد ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔

انہوں نے کہا کہ ہلاک ہونے والوں میں دولت میر کی بیوی، دو بیٹیاں اور ایک بیٹا شامل ہیں۔

اہلکار کے مطابق دولت میر کی ایک بیٹی کی عمر تین سال، دوسری کی ایک سال، بیٹے کی عمر دس سال بتائی جاتی ہے۔

زخمیوں میں دولت میر کے رشتہ دار شامل ہیں۔

مقامی پولیٹکل انتظامیہ کے افسر کے مطابق گولہ گرنے سے مکان کے دو کمرے مکمل طور پر تباہ ہوگئے اور لاشیں ملبے تلے دب گئیں۔

انہوں نے بتایا کہ مقامی افراد نے لاشوں اور زخمیوں کو ملبے سے نکالا اور زخمیوں کو ایک نجی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

یاد رہے کہ خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ میں گزشتہ دو سال سے شدت پسندوں کے خلاف غیر اعلانیہ کارروائی جاری ہے جس کے نتیجے میں سکیورٹی فورسز کے درجنوں اہلکاروں کے علاوہ عام شہری بھی نشانہ بنے ہیں۔

تحصیل باڑہ خیبر ایجنسی میں ایک حساس تحصیل سمجھی جاتی ہے۔جہاں طالبان شدت پسندوں کے علاوہ لشکر اسلام اور امن کمیٹیوں کے کئی مُسلح گروپ موجود ہیں۔

تحصیل باڑہ میں گزشتہ دو سالوں کے دوران ایک سو سے زیادہ لاشیں بھی ملی ہے۔جن میں اکثر سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے بعد لاپتہ ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں