’نیٹو سپلائی باضابطہ بنانے پر پیش رفت ہوئی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

امریکی حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ نیٹو سپلائی کی بحالی کو باضابطہ بنانے کے لیے امریکہ اور پاکستان کے درمیان بات چیت میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے تاہم اس ضمن میں مفاہمت کی یادداشت کو حتمی شکل نہیں دی جا سکی۔

پاکستان کی حکومت نے سات ماہ کے بعد رواں ماہ کے اوائل میں افغانستان میں تعینات اتحادی افواج کے لیے رسد فراہم کرنے کی خاطر پاکستان سے زمینی راستے بحال کیے تھے۔

پاکستان کی کئی مذہبی اور سیاسی جماعتیں حکومت کے اس فیصلے کی مخالت کر رہی ہیں اور انہوں نے اس کے خلاف احتجاج شروع کر رکھا ہے۔

اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کے ترجمان مارک سٹرو نے بی بی سی کے نامہ نگار ذوالفقار علی سے بات کرتے اس بات کی تصدیق کی نیٹو سپلائی کی بحالی کو باضابطہ بنانے کے لیے امریکہ اور پاکستان کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس یادداشت کو حتمی شکل نہیں دی جا سکی ہے۔

امریکی سفارتخانے کے ترجمان نے مفاہمتی یادداشت کی تفصیلات نہیں بتائیں۔

پاکستان کے انگریزی اخبار روزنامہ ڈان نے خبر دی ہے کہ مفاہمت کی یادداشت کو حتمی شکل دینے کے لیےکل پیر کو امریکی اور پاکستانی حکام اسلام آباد میں ملاقات کر رہے ہیں۔

لیکن امریکی سفارت خانے کے ترجمان نے اس کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔

اخبار ڈان کے مطابق سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب کو پاک امریکہ تعلقات کے حوالے سے صدر آصف علی زرداری کی صدارت میں فوج اور سول قیادت کے درمیان غیر رسمی ملاقات ہوئی جس میں وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف اور فوج کے سربراہ اشفاق پرویز کیانی نے شرکت کی۔ اخبار کے مطابق اس ملاقات میں امریکہ میں پاکستان کی سفیر شیری رحمان اور وزارت خارجہ اور وزارت خزانہ کے حکام بھی شریک تھے۔

سرکاری طور پر اس ملاقات کے بارے میں ابھی تک کچھ نہیں بتایا گیا۔

پاکستان کی حکومت نے رواں ماہ کے اوائل میں سات ماہ کی بندش کے بعد نیٹو سپلائی بحال کر دی تھی۔

پاکستان نے یہ فیصلہ امریکہ کی جانب سے سلالہ حملے میں پاکستان فوجیوں کی ہلاکت پر معذرت کے بعد کیا۔

پاکستان کے سابق وزیر دفاع چوہدری احمد مختار نےگزشتہ سال دسمبر میں کہا تھا کہا کہ امریکہ اور نیٹو سے ان کے لیے افغانستان امدادی سامان لے جانے کے بارے میں کوئی معاہدہ نہیں تھا اور گزشتہ دس برس سے زبانی مفاہمت کے تحت چمن اور طورخم کی سرحدوں کے راستے سامان کی ترسیل ہوتی رہی۔

گذشتہ سال نومبر کے آخر میں مہمند ایجنسی میں واقع پاکستان کی فوج کی سلالہ چیک پوسٹ پر نیٹو نے حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں چوبیس پاکستانی فوجی ہلاک ہوگیے تھے۔ اس حملے کے بعد پاکستان نے احتجاجاً افغانستان میں تعینات اتحادی افواج کے لیے پاکستان سے رسد کی فراہمی کے راستے بند کر دیے تھے۔

پاکستان کی مذہبی جماعتوں پر مشتمل دفاع پاکستان کونسل اور عمران خان کی تحریک انصاف کھل کر حکومت کے اس فیصلے کی مخالف کر رہے ہیں اور انہوں نے اس کے خلاف احتجاج شروع کر رکھا ہے۔

اسی بارے میں