’سیاسی سیل ہے بھی تو اب کام نہیں کر سکتا‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سماعت کے دوران اٹارنی جنرل عرفان قادر نے عدالت کو بتایا کہ وزارتِ قانون اور کیبنٹ ڈویژن سے بھی سارا ریکارڈ تلاش کیا گیا لیکن اس سیل کا نوٹیفکیشن نہیں مل رہا

پاکستان کی سپریم کورٹ نے خفیہ ادارے آئی ایس آئی یعنی انٹر سروسز انٹیلیجنس کی طرف سے نوے کی دہائی میں سیاست دانوں میں رقوم کی تقسیم سے متعلق ایئرمارشل ریٹائرڈ اصغر خان کی درخواست کی سماعت کے دوران موقف اختیار کیا کہ اس خفیہ ادارے میں اگر کوئی سیاسی سیل ہے بھی تو وہ اب کام نہیں کر سکتا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ آئی ایس آئی چونکہ وزیر اعظم کے ماتحت ہے، اس لیے اُن کے نوٹس میں بھی لائیں کہ اب اس ادارے میں کوئی بھی سیاسی سیل کام نہیں کر سکتا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ تین نومبر سنہ دو ہزار سات کو سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کے اقدامات کے خلاف اکتیس جولائی سنہ دو ہزار نو کا فیصلہ بہت واضح ہے۔

اس درخواست کی سماعت کرنے والے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اٹارنی جنرل عرفان قادر کو حکم دیا کہ آئی ایس آئی میں سیاسی سیل سے متعلق اُس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل اسد درانی نے جو سمری وزارتِ قانون کو بھیجی تھی اُس کا جائزہ لیا جائے اور اگر ایسا نہیں ہے تو پھر وہ سمری سربمہر کر کے عدالت میں پیش کی جائے۔

بینچ میں موجود جسٹس خلجی عارف حسین خلجی کا کہنا تھا کہ اس سیل سے متعلق کچھ دستاویزات اٹارنی جنرل کے آفس میں بھی بھیجے گئے تھے، اس لیے اُنہیں وہاں پر بھی تلاش کیا جانا چاہیے۔

اس درخواست کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل عرفان قادر نے عدالت کو بتایا کہ وزارتِ قانون اور کیبنٹ ڈویژن سے بھی سارا ریکارڈ تلاش کیا گیا لیکن اس سیل کا نوٹیفکیشن نہیں مل رہا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ بری فوج کے سابق سربراہ جنرل ریٹائرڈ مرزا اسلم بیگ اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی کی طرف سے عدالت میں جمع کروائے گئے بیانِ حلفی سے یہ بات طے ہوگئی ہے کہ سیاست دانوں میں رقوم تقسیم کی گئی ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ اس بات کا پتہ نہیں چل رہا کہ رقوم کس نے تقسیم کیں اور کس کس سیاست دان کو کتنی رقم دی گئی۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کسی کو قومی خزانے سے کسی کی بھی حکومت کو خراب کرنے یا اُس کے خلاف سازش کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ اس اہم مقدمے میں ابھی تک وزارتِ دفاع کی جانب سے کوئی پیش نہیں ہوا۔ اس کی وضاحت دیتے ہوئے سیکرٹری دفاع نرگس سیٹھی کا کہنا تھا کہ آئی ایس آئی اور ایم آئی یعنی ملٹری انٹیلیجنس اپنا موقف خود عدالت میں پیش کرنا چاہتے ہیں۔ اس مقدمے کی سماعت دو ہفتوں تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔

یاد رہے کہ سینیٹ یعنی ایوان بالا میں حکومتی سینیٹر فرحت اللہ بابر کی طرف سے آئی ایس آئی کے اختیارات سے متعلق ایک بل پیش کیا گیا تھا جسے بعدازاں موخر کردیا گیا۔

اسی بارے میں