بنوں اسلحہ خانے کے حملہ آور برقع پوش تھے

بنو فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حال ہی میں ایک سو سے زیادہ شدت پسند بنوں سنٹرل جیل میں داخل ہوگئے تھے

پاکستان کے جنوبی ضلع بنوں میں پولیس کی عمارت پر حملہ کرنے والے حملہ آوروں کا اس وقت پتہ چلا جب انہوں نے بُرقع پھینک کر سنتری پر فائرنگ شروع کی۔

پُرانے سٹی تھانے کے عمارت میں موجود سپشل پولیس برانچ کے اہلکار وریشم خان نے بی بی سی سے خصوصی بات چیت کے دوران بتایا کہ وہ عمارت کے ایک کونے میں موجود تھے کہ شدید فائرنگ شروع ہوئی۔انہوں نے بتایا کہ عمارت میں صرف دو حملہ آور داخل ہوئے جن کے پاس دو پستول اور پچیس عدد گرینڈ تھے جبکہ دونوں نے خودکُش جیکٹیں پہنی ہوئی تھیں۔

پولیس کی یہ عمارت شہر کے اندر واقع ہے، عمارت کے مین گیٹ کے سامنے جیولری کا بازار ہے مشرقی حصے میں تحصیل بلڈنگ ہے جبکہ مغربی حصے میں عام آبادی واقع ہے۔ پولیس حکام کے مطابق نو، دس کنال رقبے پر مُشتمل یہ دو منزلہ عمارت بہت پُرانی ہے۔

وریشم خان کا کہنا تھا کہ حملہ آور ایک ساتھ نہیں تھے بلکہ دو طرف سے پیدل عمارت کے مین گیٹ تک بُرقع میں پہنچے۔ انہوں نے بتایا کہ گیٹ پر موجود سنتری یہ سمجھ رہا تھا کہ کوئی عورت ہے جو معلومات حاصل کرنے کے لیے ان کے پاس آ رہی ہے۔

اہلکار کے مطابق دونوں بُرقعہ پوش حملہ آور بالکل ایک ہی وقت میں سنتری کے پاس پہنچے اور پہنچتے ہی انہوں نے فوراً سنتری پر پستول سے گولیاں چلائیں اور عمارت کے اندر داخل ہوئے۔انہوں نے کہا کہ سنتری بختیار خان کو چار گولیاں لگی ہے جن کو پشاور منتقل کردیاگیا۔

سپشل برانچ کے اہلکار نے بتایا کہ عمارت میں ایک مسجد اور آٹھ، دس کمرے ہیں اور ایک بڑے کمرے میں پُرانے اسلحہ کا ذخیرہ ہے۔

عمارت کا نیچے والا حصہ استعمال کے قابل نہیں ہے اور سپشل برانچ کے اہلکار عمارت کے دوسرے حصے میں رہائش پذیر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حملہ آور جب عمارت میں داخل ہوئے تو وہ نیچے برآمدے میں محصور ہوگئے جبکہ سپشل برانچ کے اہلکار اوپر والے حصے میں تھے۔

انہوں نے بتایا کہ سپشل برانچ کے اہلکاروں نے ہر طرف سے ان پر فائرنگ شروع کی اور ان کو آگے جانے نہیں دیا۔حملہ آور نیچے سے گرینڈ پھینک رہے تھے اور اوپر سے پولیس والے ان پر فائرنگ کر رہے تھے۔ یہ مقابلہ تقریباً تین گھنٹوں تک جاری رہا تاہم فائرنگ کے دوران ہی دونوں نے دھماکے کیے اور ہلاک ہوگئے۔

انہوں نے کہا کہ جب حملہ آور عمارت میں داخل ہوئے تو پولیس اہلکاروں نے پہلے پولیس کنٹرل روم کو اطلاع دی کہ عمارت میں خودکش حملہ آور داخل ہوئے ہیں۔اطلاع ملتے ہی پولیس کی مزید نفری اور فوجی اہلکار تین چار منٹ کے اندر پہنچ گئے اور قریبی آبادی کی عمارتوں پر پوزیشنیں سھنبال لیں اور آبادی کے لوگ گھروں میں محصور ہوگئے۔

انہوں نے کہا کہ پہلے خوکُش حملہ آور کو گارڈن علی بازار تک ایک نامعلوم شخص نے موٹرسائیکل پر پہنچایا تھا اور وہاں سے عمارت کی گیٹ تک پھر پیدل آگیا تھا اور دوسرا تحصیل بلڈنگ کی طرف سے آیا تھا۔انہوں نے مقامی لوگوں کے حوالے سے بتایا کہ گارڈن علی بازار میں موجود لوگوں نے پہلے ہی اس شک کا اظہار کیا تھا کہ موٹرسائیکل سے اُتر نے والی خاتون نہیں لگ رہی تھی بلکہ ان کے چلنے کا انذاز ایک مرد کا سا لگ رہا تھا۔

یاد رہے کہ بنوں شہر کے شمال مشرقی حصے میں اس سے پہلے ایک سو سے زیادہ شدت پسند بنوں سنٹرل جیل میں داخل ہوگئے تھے اور جیل کے تالے توڑ کر تین سو کے قریب خطرناک قیدیوں کو رہا کر لیا تھا اور بعد میں یہ شدت پسند اپنی ذاتی گاڑیوں میں بحفاظت شمالی وزیرستان پہنچ گئے تھے۔ابھی اس واقع کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے نہیں آئی ہے کہ بنوں میں یہ دوسرا واقع پیش آیا ہے۔

اسی بارے میں