بنوں میں پولیس کے اسلحہ مال خانے پر حملہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اس سے پہلے بھی بنوں شہر میں نامعلوم افراد کی طرف سے راکٹ حملے اور پولیس چوکیوں پر خودکُش حملے ہو چکے ہیں

صوبہ خیبر پختونخواہ کے جنوبی ضلع بنوں میں پیر کی صبح پولیس کی ایک عمارت پر حملہ کرنے والے چار شدت پسندوں میں سے دو نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا ہے اور دو کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس حملے میں تین پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔

پولیس ذرائع کے مطابق آج صبح پانچ مسلح شدت پسند پولیس کے زیرِ استعمال ایک عمارت میں داخل ہوگئے تھے۔

بنوں پولیس کے ایک افسر گل باز خان نے بی بی سی کے نامہ نگار دلاور خان وزیر کو بتایا کہ پیر کی صُبح بنوں شہر میں واقع پولیس تھانہ پرانا سٹی میں چار مُسلح شدت پسند داخل ہوئے جس کے بعد فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔

اس سے پہلے کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ اس حملے میں پانچ خودکش حملہ آوروں نے حصہ لیا اور ان میں سے دو ہلاک ہو گئے اور تین واپس آنے میں کامیاب ہو گئے ہیں اور اس وقت بنوں میں کسی محفوظ جگہ پر ہیں۔

انہوں نے پولیس کے اس دعوے کی تردید کی کہ ان کی تحویل میں دو خودکش حملہ آور ہیں۔

موقع پر پولیس اور فوج کی بھاری نفری پہنچ گئی اور پرانا سٹی تھانے کی عمارت کو چاروں طرف سے گھیرے میں لے لیا گیا تھا۔

پولیس ذرائع کا کہنا تھا یہ ایک پرانی عمارت ہے جس میں ماضی میں پولیس سٹی تھانہ تھا اور اب وہاں اسلحہ کا ذخیرہ خانہ اور ڈی ایس بی شعبے کے پچاس سے زیادہ پولیس اہلکار موجود تھے۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی بنوں شہر میں نامعلوم افراد کی طرف سے راکٹ حملے اور پولیس چوکیوں پر خودکُش حملے ہو چکے ہیں جس کے نتیجے میں سکیورٹی فورسز کے علاوہ عام شہری بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔

بنوں شہر قبائلی علاقے شمالی وزیرستان متّصل ایک حساس شہر ہے جہاں اس سے پہلے شمالی وزیرستان سے آئے شدت پسندوں نے بنوں سنٹرل جیل پر حملہ کر کے تین سو کے قریب قیدیوں کو رہا کیا تھا جس میں اہم طالبان کارکن بھی شامل تھے۔

اسی بارے میں