شریف خاندان: نیب کی درخواست منظور

تصویر کے کاپی رائٹ AP

راولپنڈی کی احتساب عدالت نے پاکستان مسلم لیگ نون کے صدر میاں نواز شریف، وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور اُن کے اہلخانہ کے خلاف ریفرنس کی سماعت دوبارہ شروع کرنے سے متعلق چیئرمین نیب کی درخواست کو منظور کر لیا ہے۔

ان ریفرنس میں حدیبیہ پیپرز ملز، اتقاق فاؤنڈری اور اثاثہ جات شامل ہیں اور ان یفرنس کی دوبارہ سماعت کے لیے متعلقہ افراد کو اس ماہ کی اٹھائیس تاریخ کے لیے نوٹس جاری کیے ہیں۔

راولپنڈی احستاب عدالت نمبر چار کے جج عبدالخالق نے چیئرمین نیب کو بھی نوٹس جاری کیا ہے کہ ان ریفرنس سے متعلق دستاویزات عدالت میں پیش کی جائیں۔

قومی احتساب بیورو یعنی نیب کے ترجمان ظفر اقبال نے اسلام آْباد میں ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا کہ سنہ دوہزار دس میں نیب کے مستقل چیئرمین نہ ہونے کی وجہ سے احتساب عدالت نے حکم دیا تھا کہ جب تک متعقلہ ادارے کے سربراہ کے دستخطوں سے درخواست پیش نہیں کی جائے گی اُس وقت تک ان ریفرنس کی سماعت نہیں ہوسکتی۔

اُنہوں نے کہا کہ ان ریفرنس سے متعلق سپیشل کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں چیئرمین نیب فصیح بخاری نے ان ریفرنس کی دوبارہ سماعت کے لیے ایک درخواست نیب کی عدالت میں جمع کروائی تھی۔

شریف برادران کے خلاف یہ ریفرنس سنہ دوہزار ایک میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں دائر کیے گئے تھے۔ شریف برادران کے بیرون ملک چلے جانے کی وجہ سے کچھ عرصے کے بعد ان یفرنس پر عدالتی کارروائی روک دی گئی تھی۔

یاد رہے کہ شریف برادران کے خلاف ریفرنس کی سماعت دوبار معطل کی گئی ہے۔

دوسری جانب شریف برادران نے ان ریفرنس کے خاتمے سے متعلق لاہور ہائی کورٹ میں بھی ایک درخواست دائر کر رکھی ہے۔

اسی بارے میں