بگٹی کیس:شیرپاؤ، اویس غنی کی ضمانت منسوخ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption آفتاب شیرپاؤ اور اویس غنی نے ذاتی مچلکوں پر ضمانت حاصل کی تھی

بلوچستان کی ایک عدالت نے نواب بگٹی قتل کیس میں سابق وفاقی وزیرِ داخلہ آفتاب شیرپاؤ اور سابق گورنر بلوچستان اویس غنی کی ضمانت قبل از گرفتاری منسوخ کر کے انہیں گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے۔

سبی میں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں نواب بگٹی قتل کیس کی سماعت کے دوران جج محمد نواز خان بارکزئی نے حکم دیا کہ دونوں ملزمان کو پندرہ اگست تک گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جائے۔

یاد رہے کہ آفتاب شیرپاؤ اور اویس غنی نے ذاتی مچلکوں پر ضمانت حاصل کی تھی جس پر عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔

نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق اسی مقدمے کے ایک ملزم سابق وزیراعلٰی بلوچستان میرجام محمد یوسف بلوچستان ہائی کورٹ میں دس دس لاکھ کے ذاتی مچلکے جمع کروا کے پندرہ دن کی عبوری ضمانت حاصل کر چکے ہیں۔

خیال رہے کہ عدالت نے اس سے قبل سابق صدر جنرل پرویز مشرف اور سابق وزیراعظم شوکت عزیز کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے تھے کیونکہ نواب بگٹی قتل میں نامزد کوئی بھی ملزم عدالت میں پیش نہیں ہوا تھا۔

بلوچ قوم پرست رہنما نواب اکبر بگٹی اور ان کے دیگر ساٹھ ساتھی چھبیس اگست سنہ دو ہزار چھ کو جنرل پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں فوجی آپریشن کے دوران ڈیرہ بگٹی اور کوہلو کے درمیانی علاقے ترتانی کے پہاڑوں میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ ایک جھڑپ میں ہلاک ہوئے تھے۔

نواب بگٹی کے صاحبزادے جمیل اکبر بگٹی نے سنہ دو ہزار نو میں اپنے والد کے قتل کے الزام میں سابق فوجی صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویزمشرف، سابق وزیرِاعظم شوکت عزیز، سابق وفاقی وزیرِداخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ، سابق گورنربلوچستان اویس احمدغنی اور سابق وزیرِاعلٰی بلوچستان میر جام یوسف کے علاوہ دیگر افراد کے خلاف بلوچستان ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

اسی بارے میں