منشیات سمگلنگ: ’چیکنگ کا موثر نظام‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption چیکنگ کے باعث آرڈر وقت پر پہنچانے میں دشواری سے پاکستان کی برآمدات متاثر ہو رہی ہیں: تاجر

پاکستان میں برآمدی اشیاء کے ذریعے منشیات کی سمگلنگ کی کوششوں کو ناکام بناتے ہوئے اینٹی نارکوٹکس فورس نے رواں سال تئیس ٹن چرس اور ساڑھے پانچ سو کلو گرام ہیروئن پکڑی ہے۔

یہ بات اے این ایف کے ریجنل ڈائریکٹر بریگیڈیئر محمد واجد نے پاکستان ہوزری مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جمعرات کو بتائی۔

بریگیڈیئر واجد نے کہا کہ منشیات کی سمگلنگ پر قابو پانے کے لیے برآمدی سامان لے جانے والے کنٹینروں کی چیکنگ کے نظام میں تبدیلی کی گئی ہے۔ اس نئے نظام کے باعث رواں برس اتنی بڑی تعداد میں منشیات کا ضبط کیا جانا ممکن ہو سکا ہے۔

کراچی سے نامہ نگار ارمان صابر کا کہنا ہے کہ اجلاس میں موجود تاجر برادری کے نمائندوں نے چیکنگ کے نظام پر تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے تحت برآمد کیے جانے والے کنٹینرز کے اندر موجود سامان کی تفصیلی چیکنگ اور اس میں تاخیر ان کے بیرونِ ملک کے آرڈروں کو وقت پر پورا کرنے میں دشواری کا سبب بن رہی ہے۔

اجلاس میں تاجروں نے الزام عائد کیا کہ چیکنگ کے باعث ان کے آرڈر وقت پر پہنچانے میں دشواری کے باعث پاکستان کی برآمدات متاثر ہو رہی ہیں۔

اجلاس میں موجود تاجر رفیق گوڈیل نے کہا کہ سمگل کی جانے والی منشیات کو پکڑنے کی کارروائی پچانوے فیصد مخبری پر کی جاتی ہے اور پانچ فیصد چیکنگ پر ہوتی ہے لیکن پانچ فیصد کے لیے دو ہزار کنٹینروں کو پریشان کرنا کہاں کا انصاف ہے۔

بریگیڈیئر واجد نے اس تاثر کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ چیکنگ کے مراحل کو تیز تر بنایا گیا ہے اور اس کی وجہ سے صرف ایک فیصد برآمدات متاثر ہوتی ہیں جبکہ تاجروں کو ہونے والی تکلیف میں کمی سے پاکستان کو فائدہ ہو رہا ہے ۔ ان کے بقول اتنی بڑی تعداد میں منشیات کی سمگلنگ کو ناکام بنایا گیا ہے جو پاکستان کی بدنامی کا سبب بن سکتی تھی۔

انہوں نے کہ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران بارہ کنٹینروں کو پکڑا گیا ہے جن کے ذریعے منشیات کی سمگلنگ کی کوشش کی جا رہی تھی اور اتنی زیادہ تعداد میں کنٹینرز گزشتہ بارہ سال میں نہیں پکڑے گئے۔

اس موقع پر بریگیڈیئر واجد نے کہا کہ ایسوسی ایک ایسے شخص کی تقرری کرے جو اے این ایف اور ایسوسی ایشن کے درمیان پل کا کام کرے تاکہ چیکنگ کا عمل مزید آسان اور تیز بنایا جا سکے۔

اس تجویز پر بحث کے بعد پاکستان اپیرل فورم (Pakistan Apparel Forum) کے سربراہ جاوید بلوانی نے کہا کہ اس تجویز کو ایسوسی ایشن کے اجلاس میں رکھا جائے گا اور وہ پورے ملک کے تاجروں سے اس بارے میں رائے معلوم کریں گے جس کے بعد اس بارے میں کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔

اسی بارے میں