سکیورٹی سے بڑا مسئلہ روزگار،معاشی مسائل

تصویر کے کاپی رائٹ ISNA
Image caption 2002ء سے اب تک پاکستان سے سینتیس لاکھ مہاجرین افغانستان واپس جا چکے ہیں

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزیناں کے پاکستان میں سربراہ نیل رائٹ نے کہا ہے کہ افغان پناہ گزینوں کی پاکستان سے واپسی میں سکیورٹی نہیں بلکہ روزگار اور معاشی مسائل بڑی رکاوٹ ہیں۔

انہوں نے یہ بات بلوچستان کے تین روزہ دورے کے بعد کوئٹہ میں بدھ کی شام پریس کانفرنس کے دوران کہی ۔

ان کا کہنا تھا کہ یو این ایچ سی آر پاکستان سے پناہ گزینوں کی رضا کارانہ وطن واپسی میں سہولیات فراہم کر رہا ہے اور رواں سال اب تک بلوچستان سے دس ہزار اور پاکستان سے مجموعی طور پر چالیس ہزار افراد رضا کارانہ طور پر افغانستان واپس جا چکے ہیں۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق بریفنگ کے دوران مسٹر نیل رائٹ نے کہا کہ پاکستان سے افغانستان جانےوالے پناہ گزینوں کو سکیورٹی سے زیادہ روزگار اور دیگر مسائل درپیش ہیں تاہم افغانستان کو اپنے باشندوں کی ضرورت ہے تاکہ وہ واپس جاکر اپنے ملک کی سماجی اور معاشی ترقی میں کردار ادا کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ 2002ء سے اب تک پاکستان سے سینتیس لاکھ پناہ گزین افغانستان واپس جا چکے ہیں جبکہ اس عرصہ کے دوران دنیا بھر سے اکیاون لاکھ افغان پناہ گزین اپنے ملک واپس لوٹے ۔

ان کے مطابق وطن جانےوالے پناہ گزینوں میں صرف دو سے تین فیصد واپس پاکستان آتے ہیں ۔

نیل رائٹ نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت ستر لاکھ افغان پناہ گزین بستے ہیں جن میں تین لاکھ پچاس ہزار سے زائد بلوچستان کے مختلف علاقوں میں قیام پذیر ہیں جہاں ان کی فلاح و بہبود کے لیے یو این ایچ سی آر مختلف منصوبوں پر کام کر رہی ہے جن میں تعلیم اور صحت کے شعبوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔

ان کے مطابق وفاقی و صوبائی حکومت اور متعلقہ ضلعی انتظامیہ کی مدد سے بلوچستان کے چھ اضلاع میں پناہ گزینوں کی میزبانی کرنےوالے اداروں میں بھی ’راہا‘ پروگرام کے تحت مختلف منصوبوں پر کام کیا جا رہا ہے۔

یو این ایچ سی آر کے ملکی سربراہ نے کہا کہ یہ پروگرام ’بارڈر ریجنل سلیوشن سٹرٹیجی فار افغان رفیوجیز‘ کا حصہ ہے جو پاکستان ، ایران اور افغانستان کی حکومتوں کے مابین طے پایا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں ڈھائی ہزار کے قریب افریقن، نیپالی اور دیگر ممالک کے پناہ گزین بھی بستے ہیں ۔

اس موقع پر یو این ایچ سی آر بلوچستان کے نئے سربراہ مسٹر چارلس بینچ نے چارج سنبھالنے کے بعد پہلی مرتبہ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وطن واپس جانےوالے پناہ گزینوں کو سہولیات کی فراہمی کے لیے ملک بھر میں یو این ایچ سی آرنے چار رضا کارانہ واپسی سینٹر(وی آر سی) بنائے ہیں۔

کوئٹہ میں بلیلی کے مقام پر وی آر سی سینٹر قائم ہے جہاں سے واپس جانےوالے ہر مہاجر خاندان کو ایک سو پچاس ڈالر فراہم کیے جاتے ہیں ۔

کمشنر افغان رفیوجیز بلوچستان عبدالصبور کاکڑ نے کہا کہ افغانستان میں امن کی بحالی تک پناہ گزینوں کی مکمل واپسی مشکل ہے اور عالمی برادری وعدے کے مطابق افغانستان میں امن کی بحالی کو یقینی بنائے تاکہ پناہ گزینوں کی وطن واپسی کا مرحلہ مکمل ہوسکے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان تیس سال سے پناہ گزینوں کی میزبانی کر رہا ہے اور پناہ گزینوں کی میزبانی کرنےوالے علاقوں کی معیشت اور اداروں پر اضافی بوجھ پڑا ہے اور ان مشکلات سے نمٹنے کے لیے عالمی برادری کے تعاون کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں