کراچی عالمی ادارۂ صحت کا ملازم قتل

کراچی میں پولیو کے قطرے پلانے کی مہم تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’یہ ذاتی دشمنی بھی ہوسکتی اور کوئی اور نجی معاملہ بھی۔ ضروری نہیں کہ اس شخص کو پولیو مہم سے وابستگی کی باء پر قتل کیا گیا ہو‘

کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے ایک کلینک میں گھس کر مختصر مدت کے معاہدے پر عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو۔ ایچ۔ او) کے لیے کام کرنے والے ایک پاکستانی ملازم کو گولی مار کر قتل کردیا ہے۔

پاکستان میں عالمی ادارۂ صحت کی ترجمان مریم یونس نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ ہلاک ہونے والے شخص سے عالمی ادارے نے بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جانے کی مہم کا مختصر مدتی معاہدہ کررکھا تھا۔

لیکن ڈی آئی جی ایسٹ شاہد حیات نے بی بی سی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والا شخص نہ تو ڈاکٹر تھا اور نہ ہی اقوام متحدہ سے اس کا کوئی تعلق تھا۔

تفصیلات کے مطابق اسحٰق نور نامی شخص سہراب گوٹھ کے قریب جونیجو کالونی میں واقع ثناء کلینک میں موجود تھا کہ کلینک میں داخل ہونے والے دو نامعلوم مسلح افراد اسے گولی مار کر قتل کردیا۔

ڈی آئی جی ایسٹ شاہد حیات نے بی بی سی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والا شخص ایک کلینک تو چلاتا تھا مگر باقاعدہ تعلیم یافتہ (ایم بی بی ایس) ڈاکٹر قطعاً نہیں تھا۔ پولیس افسر کے مطابق مقتول اسحق نور کاکڑ کا تعلق کوئٹہ سے تھا جسے سر میں ایک گولی مار کر قتل کیا گیا ہے۔

ڈی آئی جی کے مطابق پولیس واقعے کی تفتیش کررہی ہے سردست اس واردات کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ یہ ذاتی دشمنی بھی ہوسکتی اور کوئی اور نجی معاملہ بھی۔ ضروری نہیں کہ اس شخص کو پولیو مہم سے وابستگی کی باء پر قتل کیا گیا ہو۔

عالمی ادارۂ صحت کی ترجمان مریم یونس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ اسحٰق نور پاکستانی شہری تھے اور عالمی ادارے کے کل وقتی یا مستقل ملازم ہرگز نہیں تھے اور نہ ہی کسی اور ملک کے شہریت رکھتے تھے۔

ڈبلیو ایچ او کی ترجمان نے مزید کہا کہ اسحق نور مختصر مدت کے معاہدے پر عالمی ادارے کے لیے پاکستان میں اس پولیو مہم کے لیے کام کرتے تھے جو عالمی ادارہ حکومت پاکستان کے مختلف اداروں کی شراکت سے چلا رہا ہے۔

مریم یونس کا کہنا تھا کہ پولیو کی مہم میں مقامی افراد سے بھی مختصر مدت کے معاہدے کیے جاتے ہیں تاکہ کام بانٹا جاسکے۔

تین روز قبل یعنی بدھ سترہ جولائی کو بھی اسی علاقے سہراب گوٹھ کے قریب پولیو کے قطرے پلانے کی مہم میں شامل اقوام متحدہ کی گاڑی پر فائرنگ سے ایک غیر ملکی ڈاکٹر زخمی ہوئے تھے جن کا تعلق بھی صحت سے متعلق اقوام متحدہ کے عالمی ادارۂ صحت (ڈبلو ایچ او) سے تھا۔

نامہ نگار جعفر رضوی کا کہنا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ڈاکٹر ڈیڈو فاسٹن پر اس وقت حملہ ہوا تھا جب وہ اپنے عملے کے ہمراہ سہراب گوٹھ کے قریب واقع کچی آبادی مچھر کالونی میں بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جانے کی مہم کے لیے کام کر رہے تھے۔ نامعلوم افراد نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کی تھی اور انہیں دو گولیاں لگیں تھیں۔

سہراب گوٹھ شہر کو پورے ملک سے ملانے والی انڈس ہائی وے کا بالکل ابتدائی علاقہ ہے۔ یہ علاقہ اور اس کے آس پاس تقریباً تمام ہی مضافاتی کچی بستیاں کراچی کی پشتون اکثریتی آبادی تصور کی جاتی ہیں۔ طویل عرصے سے شدت پسندوں کی نگرانی کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے اس علاقے کو خاص توجہ بھی حاصل رہی ہے۔

اسی بارے میں