’پاکستان کو قانون کے نفاذ میں سنگین مسائل درپیش ہیں‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

جب آپ کے گلی محلوں سے دہشت گرد گرفتار ہوں اور جب عام شہریوں کے ساتھ ساتھ معروف ہستیوں کے قاتل بھی قانون کی گرفت میں نہ آسکیں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ پاکستان کو قانون کے نفاذ میں سنگین مسائل درپیش ہیں۔

پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے کئی ادارے موجود ہیں جن میں خفیہ ادارے اور فوج بھی شامل ہیں مگر پولیس، جو کہ ریاست کی سب سے بڑی نمائندہ ہے سب سے زیادہ ریاستی عدم توجہی کا شکار ہے۔

ایشیا سوسائٹی کی رپورٹ ’سٹیبلائزنگ پاکستان تھرو پولیس ریفارمز‘ اس بات کا انکشاف کرتی ہے کہ ملک بھر میں جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح، دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات، دہشتگرد تنظیموں کی موجودگی اور طالبان کی طرف سے اغوا برائے تاوان کے واقعات پاکستانی پولیس کی اس حالت کی چند وجوہات میں سے کچھ ہیں۔

رپورٹ کو ترتیب دینے والوں میں اعتزاز احسن، شعیب سڈل، بریگیڈیئر شفقت اصغر اور ایف آئی کے سابق سربراہ طارق پرویز سمیت ستائیس ماہرین شامل ہیں۔

ان ماہرین نے اپنے تجربے کی روشنی میں حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے دہشت گرد تنظیموں کو شکست دینے اور پولیس کے ادارے کو مستحکم کرنے کے لیے کئی تجاویز پیش کی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پولیس کا ادارہ جس کو عام جرائم کا مقابلہ کرنے میں بھی دشواری کا سامنا ہے دہشتگردی کے بڑھتے ہوے واقعات سے مزید مسائل کا شکار ہوگیا ہے۔

جہاں پاکستانی پولیس کو ملک بھر میں تنقید کا سامنا ہے، ان ماہرین نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اس میں کافی عمل دخل سیاسی مداخلت کا بھی ہے. ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے ادارے آزادانہ طور پر کام نہیں کر سکتے. رپورٹ کے ڈائریکٹر اور ائثیا سوسائٹی کے سینیر مشیر حسن عباس کہتے ہیں کے سیاسی مداخلت سے پولیس کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے.

رپورٹ میں کہا گیا ہے اس کے علاوہ پولیس کے ادارے کے اندر پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور اہلیتوں کی کمی بھی طاقتور عناصر کے ہاتھوں پولیس کے ناجائز استعمال کی ایک اہم وجہ ہے۔

رپورٹ میں جن مزید عوامل کو پولیس کی ناکامی کی وجہ قرار دیا گیا ان میں اداروں کے مابین رقابت، استعدادی تعمیر کا فقدان اور معاشی ضروریات کی عدم فراہمی شامل ہیں۔ بین الاقوامی اداروں کی طرف سے آنے والے فنڈز پولیس تک پہنچنے سے پہلے ہی دفاعی شعبے کی نظر ہوجاتا ہے. یہ پاکستان میں پولیس کی ناکامی کی کئی وجوہات میں سے چند ہیں.

رپورٹ میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پیش کی گئی سفارشات میں سرفہرست بنیادی سطح پر تھانوں میں ماہر تفتیش کاروں کی فراہمی ہے۔ ایک ایسا جامع پروگرام جو پولیس کو کلیدی کردار دے۔ رپورٹ میں خفیہ اداروں کے مابین معلومات کے تبادلے کے فروغ پر زور دیا گیا اور دہشت گردی کی روک تھام کے لیے پولیس، آئی بی اور آئی ایس آئی کے درمیان تعاون کو اھم قرار دیا گیا۔

داخلی تحفّظ کے قیام کے لیے پولیس اور مسلّح افواج کے مابین تعاون کو یقینی بنایا جائے اور پولیس کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے جوان اور نچلی سطح کے افسران فوج سے پولیس میں مقرر کیے جائیں۔ بلوچستان میں پولیس اور لیویز کے مابین رقابت کو کم کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ مقامی افراد کو بھرتی کیا جائے۔

پولیس پر بڑھتی ہوئی تنقید کے ساتھ ساتھ حال ہی میں انتظامی خامیوں میں بہتری کی کوششیں عمل میں یی ہیں. چند صوبوں میں پولیس کی تنخواہوں میں اضافہ بھی دیکھنے میں آیا ہے۔ پولیس آرڈر 2002 ملک میں پولیس کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے ایک تعمیری قدم تھا، تاہم رپورٹ کا کہنا ہے کہ ’سیاسی دخل اندازی اور اثر رسوخ کے استعمال کے نتیجے میں یہ آرڈر اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوسکا جو کہ ایک کمزور سیاسی ارادے کی عکاسی کرتا ہے۔‘

رپورٹ میں سیاسی دباؤ کے خاتمے کے لیے بھی تجاویز پیش کی گئی ہیں۔ ان کے مطابق پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں میں اصلاحات کو یقینی بنایا جائے اور ایک ایسے آزاد اور قابل اعتماد نگران ادارہ قائم کیا جائے جو پولیس میں بدعنوانی اور دیگر شکایات سے نمٹ سکے۔

رپورٹ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان رقابت پر بھی غور کرنے سے گریز نہیں کیا گیا اور ان اداروں پر بھی روشنی ڈالی گئی جن میں فی الوقت کوئی احتسابی عمل وجود نہیں رکھتا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے ’پارلیمان کو چاہیے کے وہ ایسی خفیہ کمیٹیاں ترتیب دیں جو بشمول آئی بی تمام خفیہ اداروں کی نگرانی کرے۔‘

رپورٹ کے آخر میں استعدادی تعمیر کے لیے بین الاقوامی امداد کی ضرورت اور صنفی حساسیت کو بہتر بنانے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا اور پولیس میں خواتین کی تقرری پر بھی بات کی گئی۔ رپورٹ کی کلیدی سفارشات میں عملی پہلو شامل تھے جن میں قانون سازی، ادارتی پہلو، دہشت گردی کا خاتمہ، بہتر مواصلت (داخلی اور خارجی) اور وسائل کی تقسیم شامل ہیں۔

اسی بارے میں