صحرائے تھر میں موروں کی پراسرار ہلاکت

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption صحرائے تھر میں گزشتہ سال بھی کئی مور بیماری کے باعث ہلاک ہوگئے تھے

سندھ کے صحرائے تھر میں اس سال بھی متعدد مور بیماری کا شکار ہو کر ہلاک ہوگئے ہیں۔

حکام مرنے والے موروں کی تعداد پانچ جبکہ ماحولیات کے لیے کام کرنے والی تنظیم اسکوپ چالیس بتاتی ہے۔

گزشتہ سال فروری کی طرح اس سال بھی تھر کے موروں میں ایک بیماری پھیل گئی تھی، جس کے نتیجے میں پچاس کے قریب مور ہلاک ہوگئے تھے۔

رواں سال جولائی میں تحصیل مٹھی کے گاؤں گلوجوتڑ میں چھ مور اسی بیماری کے باعث ہلاک ہوئے، جس کے بعد یہ دیگر دیہاتوں میں پھیل گئی۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس بیماری میں مبتلا مور کو چکر آتے ہیں اور وہ دن بدن کمزور ہوجاتا ہے اور کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے، جس کے بعد اس کی ہلاکت ہوجاتی ہے۔

محکمہ جنگلی حیات کو شبہ ہے کہ موروں میں یہ بیماری دیسی مرغیوں سے آئی ہے، جبکہ مقامی صحافی کھٹاؤ جانی کے مطابق کئی ایسے گاؤں ہیں جہاں مرغیوں کا وجود ہی نہیں مگر وہاں بھی چند مور ہلاک ہوئے ہیں۔

صوبائی وزیر محکمہِ جنگلی حیات دیا رام ایسرانی کا کہنا ہے کہ اس وقت تک صرف پانچ مور ہلاک ہوئے ہیں، جن کے نمونے مقامی لیبارٹری سے ٹیسٹ کرائے جائیں گے، تاہم اب تک یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ ان موروں کی موت کی وجہ کیا ہے۔

سوسائیٹی فار کنزویشن اینڈ پروٹکشن آف انوائرمنٹ یعنی اسکوپ کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ پندرہ روز میں چالیس سے زائد مور ہلاک ہوچکے ہیں۔

اسکوپ کے مقامی کارکن بھارو مل نے بتایا کہ ان کی معلومات کے مطابق مور خوراک کی کمی کے باعث کمزور ہوگئے ہیں۔ بقول ان کے گزشتہ سال شدید بارشوں کے باعث کوئی کاشت نہیں ہوئی اور صحرا تھر کو اس وقت قحط جیسی صورتحال کا سامنا ہے۔

تھر انیس سو اسی میں ماحولیاتی طور پر محفوظ مقرر کیا گیا تھا، مگر یہاں پائی جانے والی جنگلی پرندوں اور جانوروں کی بڑی تعداد کے بارے میں محکمہ جنگلی حیات کی جانب سے آج تک سروے نہیں کیا گیا۔

بھارو مل کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال اگر حکام کوئی منصوبہ بندی کرتے تو رواں سال اس قدر نقصان نہیں ہوتا، پنددراہ روز میں چالیس موروں کی ہلاکت کے باجود کوئی کیمپ قائم نہیں کیا گیا ہے۔

دوسری جانب محکمہ جنگلی حیات کے چیف کنزرویٹر سعید بلوچ نے متاثرہ دیہاتوں کا دورہ کیا اور اس موقعہ پر ایک مزید مور ان کی موجودگی میں ہلاک ہوگیا۔ سعید بلوچ نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ وہ اس مور کے ٹیسٹ کراچی میں کسی بڑی لیبارٹری سے کرائیں گے۔

چیف کنزرویٹر کا کہنا تھا کہ پیر سے مٹھی شہر میں ایک کیمپ قائم کیا جائےگا جو متاثرہ موروں کا علاج کرے گا۔ ان کے اس اعلان پر مقامی طور پر تنقید کی جا رہی ہے، اسکوپ کے کارکن بھارو مل کا کہنا ہے کہ اس وقت موبائل کیمپوں کی ضرورت ہے جو متاثرہ علاقوں میں جا کر مقامی لوگوں کی مدد سے ان موروں کا علاج کریں۔

اسی بارے میں