پشاور:افغان جوڑے کو تحفظ دینے کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کابل سے تعلق رکھنے والے ہیواد اور مریم نے کچھ عرصہ قبل افغانستان سے بھاگ کر ایبٹ آباد میں رہائش اختیار کر لی تھی

پشاور ہائی کورٹ نے پولیس کو پسند کی شادی کرنے والے افغان جوڑے کو تحفظ دینے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔

یہ افغان جوڑا ایبٹ آباد پولیس کے زیرِ تحویل تھا جس پر عدالت نے اسے پشاور پولیس لائن میں رکھ کر تحفظ فراہم کرنے کے احکامات جاری کیے۔

پشاور ہائی کورٹ کے دو رُکنی بنچ کے سامنے زیر سماعت اس کیس میں عدالت نے افغان جوڑے کے خلاف چودہ فارن ایکٹ کے تحت درج مقدمہ ختم کرنے کے احکامات بھی جاری کیے۔

بی بی سی کے نامہ نگار دلاورخان وزیر کے مطابق ہائی کورٹ نےافغان جوڑے کے خلاف مقدمہ کرنے والے محمد اسحاق کی گرفتاری کے احکامات بھی جاری کیے۔

پولیس کے مطابق محمد اسحاق کی گرفتاری اس لیے عمل میں آئی کیونکہ ان کا افغان مہاجرین کا کارڈ جعلی ثابت ہوا تھا۔ محمد اسحاق خود کو لڑکی کا دیور قرار دے رہے تھے۔

واضح رہے کہ کابل سے تعلق رکھنے والے ہیواد اور مریم نے کچھ عرصہ قبل افغانستان سے بھاگ کر ایبٹ آباد میں رہائش اختیارکر لی تھی۔ اس کے بعد دونوں نے اپنی مرضی سے شادی کی تھی تاہم چند دن پہلے مقامی افغان جرگے نے ان دونوں کا سراغ لگا کر انہیں افغانستان واپس لے جانے کی کوشش کی۔

جرگے کے اِس کوشش کے بعد ہیواد اور مریم نے مقامی میڈیا کے ذریعے اپیل کی کہ ان کی زندگی کو خطرہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مریم کے گھر والے ان دونوں کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں جس پر دونوں نے حکومت سے تحفظ کی درخواست بھی کی تھی۔

اسی دوران پولیس نے اس جوڑے کو حراست میں لے کر ان کے خلاف ملک میں غیرقانونی طور پر قیام پذیر ہونے کے جرم میں مقدمہ درج کر لیا تھا۔

ہیواد اور مریم کی اپیل پر پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس دوست محمد نے اس واقعہ کا از خود نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی اور کمشنر ایبٹ آباد کو ہدایت جاری کی تھیں کہ افغان جوڑے کو تحفظ دیکر پیر کے روز عدالت میں پیش کیا جا ئے۔