’ڈاکٹر ارسلان چھبیس جولائی کو پیش ہوں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption نوٹس دینے کی خبریں محض اخبارات کی حد تک ہی محدود ہیں: وکیل ڈاکٹر ارسلان

پاکستان کے قومی احتساب بیورو یعنی نیب نے کروڑوں روپے کے مبینہ لین دین کے معاملے میں پاکستان کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے صاحبزادے ڈاکٹر ارسلان کو چھبیس جولائی کو مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کو کہا ہے۔

اس معاملے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم نے ڈاکٹر ارسلان کو منگل تیئیس جولائی کو طلب کیا تھا لیکن وہ پیش نہیں ہوئے۔

نیب نے سپریم کورٹ کے رجسٹرار ڈاکٹر فقیر حیسن کو بھی پچیس جولائی کو کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کو کہا ہے۔ نیب کے ترجمان کا کہنا ہے کہ تحقیقاتی ٹیم بھی بھی شخص کو طلب کرسکتی ہے

اس معاملے کے دوسرے مرکزی کردار اور بحریہ ٹاؤن کے سابق سربراہ ملک ریاض بھی تین روز قبل تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوئے تھے۔

نیب کے ترجمان ظفر اقبال نے بی بی سی اردو کے شہزاد ملک کو بتایا کہ اس معاملے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم سارا دن ڈاکٹر ارسلان کا انتظار کرتی رہی لیکن وہ پیش نہیں ہوئے اور نہ ہی اُنہوں نے پیش نہ ہونے سے متعلق آگاہ کیا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے صاحبزادے کو تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہونے سے متعلق نوٹس اُن کے گھر کے پتے پر بھیجا گیا تھا تاہم اُنہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ڈاکٹر ارسلان ان دنوں کہاں رہائش پذیر ہیں۔

اس معاملے میں نیب کے حکام نے ملک ریاض کے داماد سلمان احمد اور اُن کے کاروباری شراکت دار احمد خلیل کو بھی منگل کو ہی تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہونے کو کہا تھا لیکن وہ بھی پیش نہیں ہوئے۔

نیب حکام کے مطابق سلمان احمد نے بذریعہ فیکس بتایا ہے کہ پاکستان آنے پر اُن کی جان کو خطرہ ہےاس لیے وہ صرف بیان دینے کے لیے پاکستان نہیں آسکتے۔ احمد خلیل کے بارے میں نیب کے حکام کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے اطلاع دی ہے کہ وہ ان دنوں جرمنی میں زیر علاج ہیں۔

ڈاکٹر ارسلان افتخار کے وکیل سردار اسحاق نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی تردید کی کہ اُن کے موکل کو نیب کے سامنے پیش ہونے سے متعلق کوئی نوٹس ملا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ نوٹس دینے کی خبریں محض اخبارات کی حد تک ہی محدود ہیں۔

اس معاملے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر ارسلان نے سپریم کورٹ میں ایک درخواست بھی دائر کر رکھی ہے جس کی سماعت منگل کے روز جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا دو رکنی بینچ کرے گا۔

ڈاکٹر اسلان کے وکیل نے الزام عائد کیا کہ نیب کی تحقیقاتی ٹیم اس معاملے کے دیگر دو اہم کرداروں سلمان احمد اور احمد خلیل کو پاکستان نہیں لانا چاہتی بلکہ بیرون ملک جاکر اُن کے بیانات قلمبند کرے گی

یاد رہے کہ نیب کی تحقیقاتی ٹیم نے ملک ریاض کو بیس جولائی کو طلب کیا تھا اور دو گھنٹے تک تفتیش کرنے کے بعد اُنہیں سوالنامہ بھی دیا تھا اور یہ سوالنامہ جوابات کے ساتھ منگل تک کمیٹی کو پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

یاد رہے کہ ملک ریاض نے الزام عائد کیا تھا کہ اُنہوں نے سپریم کورٹ میں بحریہ ٹاؤن اور اُن کی ذات سے متعلق زیر سماعت مقدمات میں ریلیف حاصل کرنے کے لیے نقدی اور ارسلان افتخار کے بیرون ممالک دوروں پر اُٹھنے والے اخراجات کی مد میں چونیتس کروڑ روپے دیے ہیں تاہم اتنی رقم خرچ کرنے کے باوجود اُنہیں کوئی ریلیف نہیں ملا۔

اسی بارے میں