’بلوچستان میں صرف نام کی حکومت ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کوئٹہ میں عام لوگ تو ایک طرف فوجی افسر بھی خوف زدہ ہوکر گُزرتے ہیں: جسٹس خلجی عارف حسین

سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ حکومت، فوج، آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلیجنس اور فرنٹیئر کور سمیت کوئی بھی ادارہ بلوچستان میں اپنی کارکردگی دکھانے میں ناکام رہا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ صوبے میں آئینی بحران پیدا ہو رہا ہے۔

عدالت نے وفاقی اور بلوچستان کی حکومتوں اور اُن کے ماتحت اداروں سے کہا ہے کہ وہ تحریری طور پر بتائیں کہ وہ بلوچستان میں امن اومان قائم رکھنے کے لیے اپنی آئینی ذمہ داریاں ادا کرنے میں کیوں ناکام رہے۔

سپریم کورٹ نے فرنٹئیر کورکے سربراہ میجر جنرل عبیداللہ خٹک سے کہا کہ وہ ایف سی کے اُن اہلکاروں کو پولیس کے حوالے کریں جن کے نام لوگوں کے اغوا سے متعلق مقدمات میں درج ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر یہ سرکاری اہلکار بےگناہ ہوئے تو رہا ہو جائیں گے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے منگل کو بلوچستان میں امن وامان سے متعلق مختلف درخواستوں کی سماعت کی۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سماعت کے دوران ایف سی کے جانب سے ایک رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی جس میں کہا گیا ہے کہ اس سال جنوری سے بیس جولائی تک آٹھ سو اُنتیس شدت پسندی کی وارداتیں ہوئیں جس میں چار سو اُنتیس افراد مارے گئے جن میں سے چون ایف سی کے اہلکار تھے۔

اس رپورٹ میں یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ ایف سی کو پولیس کی طرح تفتیش کے اختیارات بھی دیے جائیں تاکہ ایسے افراد کے خلاف موثر طریقے سے کارروائی کی جاسکے جو ایف سی سمیت سکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم پر ایک کمیشن تشکیل دیا جائے اور لاپتہ افراد کے مقدمات اس کمیشن کو سونپ دیے جائیں۔

ایف سی اور خفیہ ایجنیسوں کے وکیل راجہ ارشاد نے عدالت کو بتایا کہ ایف سی کا کوئی بھی اہلکار لوگوں کے اغوا میں ملوث نہیں ہے بلکہ جرائم پیشہ عناصر ایف سی کی یونیفارم پہن کر غیر قانونی کارروائیاں کر رہے ہیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ایسے لاتعداد شواہد عدالت میں پیش کیے گئے ہیں جن میں یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ایف سی کے اہلکار لوگوں کے اغوا میں ملوث ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ فوج صوبے میں آپریشن نہیں کرر ہی بلکہ وہ بیرکوں میں ہے۔

ایف سی کے سربراہ میجر جنرل عبیداللہ خٹک نے عدالت کو بتایا کہ اس تاثر کو ختم کرنے کے لیے کہ لوگوں کے اغوا میں ایف سی کے اہلکار ملوث ہیں، کرنل رینک کے افسران کی سربراہی میں آٹھ کمیٹیاں بنائی گئی ہیں جو تمام معاملات کا جائزہ لے گی۔

بینچ میں موجود جسٹس خلجی عارف حسین کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں عام لوگ تو ایک طرف فوجی افسر بھی خوف زدہ ہوکر گُزرتے ہیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اس مقدمے کو گُزشتہ چھ ماہ سے سُن رہے ہیں لیکن حکومت سمیت کسی بھی ادارے نے صوبے میں امن وامان قائم کرنے کے لیے اپنی کارکردگی نہیں دکھائی۔

عدالت کا کہنا تھا کہ صوبے میں موجود اعلی عہدوں پر فائز افسران اگر اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا نہیں کرتے تو پھر وہ اپنے عہدوں سے الگ ہو جائیں۔ اُنہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بھی برائے نام حکومت نظر آتی ہے۔

سپریم کورٹ نے ڈپٹی اٹارنی جنرل اور بلوچستان کے ایڈووکیٹ جنرل سے کہا ہے کہ وہ متعلقہ حکومتوں اور اس کے ماتحت اداروں سے تحریری جواب لکھوا کر پچیس جولائی کو عدالت میں جمع کروائیں کہ وہ کیوں بلوچستان میں اپنی آئینی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام رہے۔

اسی بارے میں