رحمان ملک، عبدالقادرگیلانی کا نوٹیفکیشن

تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption پیپلز پارٹی کے رہنما سید عبدالقادر گیلانی نے آزاد امیدوار شوکت بوسن کو شکست دی ہے

پاکستان کے الیکشن کمیشن نے منگل کو سید یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے کے بطور رکن قومی اسمبلی اور وزیراعظم کے مشیر داخلہ رحمان ملک کے سندھ سے بلا مقابلا سینیٹر منتخب ہونے کے نوٹیفکیشن جاری کر دیے ہیں۔

نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق ایک ہی پریس ریلیز کے ذریعے کمیشن نے دونوں نوٹیفکیشن جاری کیے ہیں اور دونوں اراکین، پارلیمان کے اپنے اپنے ایوان کے آئندہ اجلاسوں میں حلف اٹھائیں گے۔

سید عبدالقادر گیلانی اپنے والد یوسف رضا گیلانی کی نا اہلی کے باعث خالی ہونے والی ملتان کی نشست سے کامیاب قرار پائے۔ وہ پہلے پنجاب کی صوبائی اسمبلی کے رکن تھے اور اُس نشست سے مستعفیٰ ہوکر قومی اسمبلی میں آئے۔ جہاں ان کے چھوٹے بھائی علی موسیٰ گیلانی پہلے ہی ملتان سے شاہ محمود قریشی کی خالی کردہ نشست سے منتخب ہوئے تھے۔

ایک ہی وقت میں دو بھائیوں کا قومی اسمبلی میں منتخب ہونا شاذ و نادر ہی ہوتا ہے۔ انیس سو ترانوے میں محمود خان اچکزئی اور ان کے بھائی ایک ہی وقت میں اراکین قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے اور اس کے بعد اب یہ پہلا موقع ہے کہ گیلانی برادرز قومی اسمبلی میں پہنچے ہیں۔

سید عبدالقادر گیلانی کے مقابلے میں ویسے تو ایک آزاد امیدوار شوکت بوسن تھے لیکن انہیں حکومتی اتحاد کے علاوہ اپوزیشن کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کی حمایت حاصل تھی۔

شوکت بوسن کے بڑے بھائی سکندر حیات بوسن تحریک انصاف میں ہیں۔ پارلیمان میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ نون نے اپنا امیدوار کھڑا کیا تھا لیکن وہ عین وقت پر گیلانی کے حق میں دستبردار ہوگیا۔

نتیجے میں مسلم لیگ نون، تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور دیگر نے شوکت بوسن کی حمایت کی لیکن وہ تقریباً چار ہزار ووٹوں کے فرق سے ہار گئے۔

ملتان کے مقامی صحافیوں کے مطابق شوکت بوسن کے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ساتھ تصاویر والے پوسٹر بھی لگے اور یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی، جیسا کہ انہیں عدلیہ کی بھی حمایت حاصل ہے۔ عاصمہ جہانگیر سمیت کچھ لوگوں نے اس صورتحال کو نوٹس لینے کا مطالبہ بھی کیا لیکن کسی نے کان نہیں دھرا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دوہری شہریت کیس میں سپریم کورٹ نے رحمان ملک کی رکنیت معطل کر دی تھی

سوئس حکام کو صدرِ مملکت کے خلاف مقدمات دوبارہ کھولنے کے لیے خط نہ لکھنے کے سوال پر نا اہل ہونے والے سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی خالی نشست پر جو ضمنی انتخاب ہوا، اس کے نتائج کو بعض تجزیہ کار عدالتی فیصلے کے خلاف عوامی عدالت کے فیصلے سے تعبیر بھی کر رہے ہیں۔

یوسف رضا گیلانی کی نشست تو عدالتی حکم کے ذریعے خالی ہوئی لیکن رحمان ملک نے تو خود ہی سینیٹ کی نشست سے استعفیٰ دیا اور ضمنی انتخاب میں بلا مقابلا منتخب ہوئے۔

سپریم کورٹ نے ان کی سینیٹ کی رکنیت دوہری شہریت کی وجہ سے معطل کی تھی اور رحمٰن ملک نے عدالت کو بتایا تھا کہ انہوں نے سال دو ہزار آٹھ میں برطانوی شہریت چھوڑ دی تھی۔ لیکن عدالت میں وہ اطمینان بخش ثبوت پیش نہیں کر پائے تھے۔

رحمٰن ملک نے اب الیکشن کمیشن کو برطانوی شہریت چھوڑنے کے جو ثبوت پیش کیے ہیں اس سے تو ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے حال ہی میں شہریت ترک کی ہے اور سال دو ہزار آٹھ میں شہریت چھوڑنے کا ان کا موقف درست معلوم نہیں ہوتا۔

مشیر داخلہ رحمٰن ملک کی رکنیت دوہری شہریت کی وجہ سے معطل ہوئی تھی اور یہی سبب تھا کہ انہوں نے سینیٹ کی رکنیت سے استعفیٰ دیا۔ لیکن اب بطور پاکستانی شہری انہوں نے خود کو دوبارہ سینیٹر منتخب کروایا ہے اور وہ سمجھ رہے ہیں کہ ان کی جان چھوٹ گئی۔

لیکن بعض قانونی ماہرین کی رائے ہے کہ رحمٰن ملک کے سر پر اب بھی نااہلی کی تلوار لٹک رہی ہے کیونکہ انہوں نے دوہری شہریت کے حوالے سے عدلیہ میں مبینہ طور پر جھوٹا بیان حلفی داخل کیا تھا۔ عدالت اب انہیں جھوٹ بولنے کی بنا پر نا اہل قرار دے سکتی ہے۔ لیکن اس بات کا دارو مدار سپریم کورٹ پر ہے کہ وہ اس معاملے کو کس طرح سے دیکھتی ہے۔

اسی بارے میں