ایم کیو ایم کی اے این پی سے ملاقات

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ایم کیو ایم کی وفد نے منگل کو جماعت اسلامی اور پاکستان مسلم لیگ قاف کے رہنماؤں سے بھی ملاقات کی تھی

متحدہ قومی موومنٹ اور عوامی نیشل پارٹی کے رہنماؤں نے ایک ملاقات میں اتفاق کیا ہے کہ کراچی میں امن کے قیام اور جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔

ایم کیو ایم یعنی متحدہ قومی موومنٹ اور اے این پی یعنی عوامی نیشنل پارٹی مرکز اور سندھ میں حکمران جماعت پیپلزپارٹی کی اتحادی ہیں اس کے باوجود دونوں جماعتوں کے ایک دوسرے سے شدید سیاسی اختلاف بھی ہیں۔

بدھ کو اسلام آباد میں خیبر پختونخوا ہاؤس میں ہونے والی اِس ملاقات میں متحدہ قومی موومنٹ کے وفد کی قیادت پارٹی کے ڈپٹی کنوینر فاروق ستار جبکہ میزبان اے این پی کے وفد کی قیادت سینیٹر حاجی عدیل نے کی اور اس کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرس سے خطاب کیا۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ’اصل مسئلہ کراچی سمیت سندھ میں حکومت کی عملداری کے قیام کا ہے، وہاں پر حکومت کی اور ریاست کی عملداری کو قائم ہونا چاہیے اور اس کے لیے بلا امتیاز جو جرائم پیشہ عناصر ہیں اور جو سازشی عناصر ہیں ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ تشدد، دہشتگردی اور جرائم کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔

اے این پی کے رہنما حاجی عدیل کا موقف بھی کوئی مختلف نہیں تھا۔انہوں نے کہا ’ہم اتفاق کرتے ہیں کہ کراچی میں جتنے بھی مافیا ہیں چاہے وہ لینڈ مافیا ہو، ڈرگ مافیا یا اسلحہ مافیا ان سب کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ اگر انھوں نے لال ٹوپی پہنی ہے یا ان کے پاس ایم کیو ایم کا جھنڈا ہے یا پیپلز پارٹی کا جھنڈا یا جماعت اسلامی کا یا کسی اور جماعت کا انہیں معاف نہ کیا جائے۔ ہم ان سب لوگوں سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہیں جو کراچی میں جرائم کرتے ہیں۔‘

حاجی عدیل نے کہا کہ کراچی پر مزید بات ہوگی اور ہماری اور ایم کیو ایم کی یہی خواہش ہے کہ کراچی میں امن ہونا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اے این پی اور ایم کیو ایم کے رہنماؤں کے درمیان یہ ملاقات پاکستان کی سیاست میں بہتری کی طرف ایک قدم ہے اور ہم اس قدم کو آگے بڑھاتے رہیں گے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ایم کیو ایم کی دعوت پر کراچی میں ان کے ہیڈ کواٹر نائن زیرو جائیں گے۔

واضح رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ نے حال میں ملک کی سیاسی اور مذہبی جماعتوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا ہے۔

اس سے پہلے فاروق ستار کی قیادت میں ایم کیو ایم کے وفد نے منگل کو منصورہ لاہور میں جماعت اسلامی کے رہنماؤں سے ملاقات کی تھی۔

ایم کیو ایم کے رہنما کا کہنا ہے کہ ان ملاقاتوں کا مقصد ملک کی تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے درمیان اتحاد اور اتفاق پیدا کرنا ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ نے اپنی ملاقاتوں کا آغاز سیاسی طور پر اپنی حریف جماعتوں جماعت اسلامی اور اے این پی سے کیا۔

ماضی میں ایم کیو ایم کے جماعت اسلامی اور اے این پی کے خاص طور پر کراچی میں تعلقات کشیدہ رہے ہیں۔ ایک طرف جماعت اسلامی اور اے این پی اور دوسری جانب ایم کیو ایم وقتًا فوقتاً ایک دوسرے پر اپنے کارکنوں کی ہلاکتوں کے الزام لگاتی رہی ہیں۔

کراچی میں سیاسی مخالفت اور قتل و غارت گری سے بھری تلخیوں کے باوجود ایم کیو ایم اور اے این پی کے رہنماؤں نے امن کے قیام پر اتفاق تو کیا لیکن اس بارے میں دونوں جماعتیں کوئی ٹھوس تجاویز نہیں دی سکیں۔

اسی بارے میں