روہنگیا مسلمانوں کا مذہبی جماعتوں سے رابطہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پاکستان کے مختلف شہروں میں روہنگیا مسلمانوں کی حمایت میں مظاہرے کیے گئے تھے

پاکستان میں موجود روہنگیا مسلمانوں نے برما میں جاری پرتشدد کارروایوں کے خلاف مذہبی جماعتوں سے رابطہ کیا ہے۔ ان جماعتوں نے روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کے خلاف احتجاج کیا تھا لیکن پذیرائی نہ ملنے پر یہ جماعتیں خاموش ہوگئیں۔

کراچی میں روہنگیا مسلمانوں کی ایک قابل ذکر تعداد موجود ہے، جن میں سے اکثر غیر قانونی تارکین وطن ہیں۔ روہنگیا مسلمانوں کے ایک وفد نے نور حسین ارکانی کی قیادت میں جماعت اسلامی، جمعیت علما اسلام اور دیگر مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقات کی۔

نور حسین ارکانی کا کہنا ہے کہ پاکستان کے مسلمانوں کو اپنے بھائیوں کے لیے آواز بلند کرنی چاہیے۔’ مسلمان بھائیوں سے ہم اپیل کرتے ہیں کہ وہ متاثرینِ روہنگیا کی داد رسی کریں وہ اخبارات اور ذرائع ابلاغ دیکھ کر صورتحال کا اندازہ لگا سکتے ہیں، کیونکہ اس وقت روہنگیا کی حمایت میں جو کچھ کیا جارہا ہے وہ آٹے میں نمک کے برابر ہے‘۔

جماعۃ الدعوۃ کی جانب سے پاکستان کے مختلف شہروں میں روہنگیا مسلمانوں کی حمایت میں مظاہرے کیے گئے تھے۔ کراچی میں یہ احتجاج برمی کالونی میں منعقد کیا گیا، جماعۃ الدعوۃ کے امیر حافظ سعید تسلیم کرتے ہیں پاکستان میں اس معاملے پر موثر رد عمل سامنے نہیں آیا۔

’روایت کے مطابق جہاں بھی مسلمانوں پر ظلم ہوتا ہے وہاں پاکستان شدید رد عمل کا اظہار کرتا ہے، حکومت کی سطح پر بھی عوامی سطح پر بھی۔ لیکن یہ افسوسناک بات ہے کہ یہاں پر یہ رد عمل سامنے نہیں آیا۔‘

پاکستان کی حکومت کی جانب سے اس معاملے پر کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا، جماعت اسلامی کے امیر منور حسن کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان چاہے تو اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

’ پاکستان کی حکومت اگر کوشش کرے تو کئی اور مسلم ممالک کو اپنے ساتھ ملا سکتی ہے، برما وفد بھیج کر مذاکرات کرسکتی ہے، بنگلہ دیش حکومت کو بھی کہہ سکتی ہے وہ اپنی سرحد کھول دیں۔ اس کے علاوہ برما کے سفیر کو طلب کر کے بھی بات کی جاسکتی ہے‘۔

واضح رہے کہ مغربی برما میں تقریباً آٹھ لاکھ روہنگیا مسلمان آباد ہیں۔ برما کے حکام کا دعویٰ ہے کہ روہنگیا نقل مکانی کر کے وہاں پہنچے ہیں لیکن بنگلہ دیش کا اصرار ہے کہ ان لوگوں کا تعلق برما سے ہے اس لیے انہیں ملک میں آنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

روہنگیا مسلمانوں کے خلاف حالیہ پرتشدد واقعات کی ابتدا ایک بدھ مذہب سے تعلق رکھنے والی لڑکی سے جنسی زیادتی کے بعد ہوئی، جس کے رد عمل میں روہنگیا مسلمانوں کی بستیوں پر حملے کیے گئے۔

دوسری جانب پاکستان میں رفاعی تنظیم ایدھی فاؤنڈیشن کے روح رواں عبدالستار ایدھی نے اعلان کیا ہے کہ رمضان کے بعد وہ برما جا کر روہنگیا مسلمانوں کی مدد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اسی بارے میں