اُنیس ہزار والدین کا پولیو قطرے پلانے سے انکار

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بعض والدین کا کہنا ہے کہ پولیو کے قطرے اسلامی نقط نظر سے دُرست نہیں ہے اور یہ امریکہ کی ایک سازش ہے جبکہ بعض کا کہنا ہے کہ یہ خاندانی منصوبہ بندی کے لئے ایک چال ہے۔

خیبر پختونخوا میں محکمۂ صحت کے مطابق تین روزہ انسداد پولیو مُہم کے دوران اُنیس ہزار والدین نے اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کیا جبکہ اس کے علاوہ قبائلی علاقوں میں دو لاکھ بچے پولیو کے قطروں سے محروم رہے ہیں۔

پولیو سے بچاؤ کے ادارے ای، پی، آئی کے ڈپٹی ڈائریکٹر جانباز آفریدی نے بی بی سی کے نامہ نگار دلاورخان وزیر کو بتایا کہ قطرے نہ پلانے والے والدین کی تعداد سب سے زیادہ پشاور میں جبکہ دوسرے نمبر پر مردان میں تھی۔

انہوں نے بتایا کہ ایسے والدین جنہوں نے اپنے بچوں کو قطرے نہیں پلوائے ان کی مختلف قسم کی شکایات ہیں۔ بعض والدین کا کہنا ہے کہ پولیو کے قطرے اسلامی نقطۂ نظر سے دُرست نہیں اور یہ امریکہ کی ایک سازش ہے جبکہ بعض کا کہنا ہے کہ یہ خاندانی منصوبہ بندی کے لیے ایک چال ہے۔

جانباز آفریدی نے مزید کہا کہ یہ تعداد صرف خیبر پختونخوا میں ہے اور قبائلی علاقے اس کے علاوہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیو مُہم کے دوران مختلف اضلاع سے آنے والی رپورٹ کے بعد محکمہ صحت نے مقامی انتظامیہ اور علماء کی تعاون سے کوششیں شروع کی ہیں اور ان کو اُمید ہے کہ مقامی انتظامیہ اور علماء کی کوششوں سے بعض والدین اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے پر راضی ہو سکیں گے۔

ڈاکٹر جانباز آفریدی کے مطابق پولیو کے قطرے پلانے سے انکار پر والدین کے خلاف ابھی تک کوئی خاص قانون موجود نہیں ہے البتہ مقامی انتظامیہ انکار کرنے والے والدین کو گرفتار بھی کرتی ہے اور قطرے پلانے کے بعد ان کو رہا کر دیا جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ شمالی و جنوبی وزیرستان اور خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ میں پولیو مُہم چلانا بہت مُشکل ہے اور وہاں اس وقت دو لاکھ بچے پولیو کے قطرے پینے سے محروم ہیں۔

واضح رہے کہ حکومت پاکستان اور غیر مُلکی اداروں کی جانب سے پولیو کا شکار ہونے والے بچوں پر کثیر رقم خرچ کرنے کے باوجود ایسے بچوں کی تعداد میں کمی کی بجائے خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے جن کے والدین ان کو قطرے نہیں پلاتے۔

بتایا جاتا ہے کہ اس وقت سب سے زیادہ پولیو کے کیسز پاکستان میں سامنے آئے ہیں۔ گزشتہ سال کے ابتدائی چھ ماہ میں انسٹھ کیسز سامنے آئے تھے جبکہ رواں برس میں اب تک تیئیس کیسز کے اطلاعات ہیں۔

اسی بارے میں