باجوڑ ایجنسی: بم دھماکے میں نو افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption زخمیوں میں سے چار کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں مقامی انتظامیہ کے مطابق تحصیل سلارزئی کے ہیڈ کوارٹر پشت بازار میں ہونے والے ایک ریموٹ کنٹرول بم دھماکے کے نتیجے میں کم از کم نو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

تحصیل سلارزئی کی مقامی انتظامیہ کے مطابق ریموٹ کنٹرول بم دھماکہ پشت بازار کی ایک دکان میں ہوا ہے۔

مقامی انتظامیہ کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں میں دو بچے بھی شامل ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد بائیس ہے جن میں سے چار کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر امدادی کارروائیاں شروع کر دیں اور لاشوں اور زخمیوں کو ایجنسی ہیڈکوارٹر خار منتقل کر دیا گیا۔

نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اس بم دھماکے میں ہدف کون تھا۔ ادھر تحریکِ طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے اس دھماکے سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے۔

اس سے پہلے باجوڑ ایجنسی میں طالبان کے خلاف سرگرم قبائلی لشکر کے رہنماوں پر متعدد بار حملے ہو چکے ہیں۔

قبائلی علاقوں میں حکومت کے حامی لوگوں پر حملوں کا سلسلہ گزشتہ کئی سالوں سے جاری ہے جس کے نتیجے میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ابھی ایک ہزار کے قریب قبائلی عمائدین یا امریکہ کے لیے جاسوسی کے الزام میں مارے گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption لاشوں اور زخمیوں کو ایجنسی ہیڈکوارٹر خار منتقل کر دیا گیا

رواں سال مئی میں باجوڑ ایجنسی میں ہونے والے ایک مبینہ خودکش حملے میں سکیورٹی اہلکاروں سمیت بیس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

باجوڑ ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے شدت پسند تنظیموں کے خلاف کاروائیوں کے بعد سکیورٹی کی صورتحال کافی حد تک بہتر ہوئی ہے۔

اس سے پہلے ایجنسی میں کئی برس تک امن و امان کی صورتحال انتہائی خراب رہی جبکہ اس دوران چار لاکھ کے قریب افراد بھی بے گھر ہونے پر مجبور ہوگئے تھے۔ تاہم اب زیادہ تر متاثرین اپنے اپنے علاقوں کو واپس جا چکے ہیں لیکن علاقے کے لوگ اب بھی متاثرہ کیمپوں میں مقیم ہیں۔

اسی بارے میں