’این ڈی ایم ایکٹ پر نظرِ ثانی کریں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان میں سال دو ہزار دس اور گیارہ میں سیلاب اور بارشوں سے لاکھوں افراد متاثر ہوئے تھے

ایک بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم ایکشن ایڈ نے پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے این ڈی ایم اے کو آئینی حیثیت دینے کے لیے بنائے گئے این ڈی ایم ایکٹ برائے دو ہزار دس پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔

تنظیم نے اس ضمن میں چند تجاویز پیش کی ہیں جنہیں چیئرمین این ڈی ایم اے ڈاکٹر ظفر اقبال قادر نے یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ ہم بات چیت میں الجھنا نہیں چاہتے کیونکہ یہ کام پارلیمان کا ہے اور پارلیمان کے پاس کرنے کے لیے اور بہت سے اہم کام ہیں۔

نومبر سن دو ہزار دس میں پارلیمان نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ پاس کیا تھا اور دسمبر دو ہزار دس میں صدر پاکستان کے دستخط کے بعد اسے آئینی حیثیت حاصل ہوگئی تھی۔

اس قانون کے عمل میں آنے کے ساتھ ہی قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کو بھی آئینی تحفظ حاصل ہوگیا۔ اُس وقت حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اس اقدام کو انتہائی اہم تبدیلی گردانا گیا کیونکہ اس طرح این ڈی ایم اے ایک بااختیار ادارہ بن گیا۔

بی بی سی کی نامہ نگار شمائلہ خان کے مطابق غیر سرکاری ادارے ایکشن ایڈ کا ماننا ہے کہ پاکستان، قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری کے ساتھ ساتھ اس سے بچاو کے لیےاقدامات اٹھانے پر زور دے۔

انہوں نے این ڈی ایم ایکٹ میں تبدیلی کے لیے چند تجاویز تیار کر کے چیئرمین این ڈی ایم اے کو پیش کی ہیں۔

ان تجاویز میں کہا گیا ہے کہ قدرتی آفت کی تعریف کو وسیع کر کےاس میں انسانی غفلت کے عنصر کو شامل کیا جائے اور غفلت کی صورت میں متعلقہ اداروں کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔

یہ واضح کیا جائے کہ کسی علاقے کو قومی، صوبائی یا ضلعی سطح پر آفت یا مصیبت زدہ قرار دینے کا اختیار کس کے پاس ہوگا تاکہ ٹھوس جوابی کارروائی عمل میں آ سکے ۔

یہ طے کیا جانا چاہیے کہ قدرتی آفات سے متاثرہ لوگوں کو جو امداد فراہم کی جائے، اُس کا کم از کم معیار کیا ہو۔ ریلیف میں، بے گھر ہونے والے افراد کے لیے سماجی اور نفسیاتی امداد کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔

این ڈی ایم ایکٹ دو ہزار دس میں غیر محفوظ گروہوں کے بارے میں ذکر ضرور ہے لیکن یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ اس میں کون کون شامل ہے۔

تجویز دی گئی ہے کہ ان کمزور یا غیر محفوظ گروہوں میں نوزائیدہ بچوں، حاملہ خواتین و دودھ پلانے والی ماوں سمیت معزور و بوڑھے افراد اور عام عورتوں اور بچوں کو شامل کیا جائے۔

اس کے علاوہ ضلع کی سطح پر ایک سیکرٹریٹ کا قیام عمل میں لایا جائے اور اسے مالی اور انسانی وسائل بھی فراہم کیے جائیں کیونکہ کسی بھی قدرتی آفت کی صورت میں سب سے پہلے ضلعی سطح پر ایک نظام کا موجود ہونا بہت ضروری ہے تاکہ فوری طور پر مسائل کی نشاندہی ہو سکے اور اس سے نمٹنے کی تیاری کی جا سکے۔

ایکشن ایڈ کی جانب سے این ڈی ایم ایکٹ دو ہزار دس پہ نظر ثانی کی تجاویز کے بارے میں چیئرمین این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ قانون میں عالمی تعریف ہی اپنائی جاتی ہے اسے ہم آپ تیار نہیں کر سکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ ضلعی سطح پر قدرتی آفات کے ادارے آپریشنل ہیں البتہ انہیں فنڈز کی کمی کا سامنا ہے۔ ریلیف کے کم از کم معیار کے حوالے سے ان کا کہنا تھاکہ ہم نے اس مقصد کے لیے عالمی معیار کو اپنایا ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسی دس باتیں سامنے آ سکتی ہیں۔ ہم وہ سب کچھ کر رہے ہیں جو کرنا چاہیے۔ ہم ڈائیلاگ میں الجھنا نہیں چاہتے۔ یہ کام پارلیمان کا ہے اور پارلیمان کے پاس کرنے کے لیے اور بہت بہتر کام ہیں۔

اسی بارے میں