’عدلیہ نظم و ضبط کا مظاہرہ کرے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کے ترجمان سینیٹر فرحت اللہ بابر نے جعمہ کو سینیٹ کے اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ نظم و ضبط کا مظاہرہ کرے۔

انہوں نے کہا کہ اگر پارلیمان کا ریکارڈ عدلیہ میں پیش کیا جاسکتا ہے تو پھر پارلیمان کو بھی سپریم کوررٹ کے اکاؤنٹس چیک کرنے کا اختیار ہے۔

صدارتی ترجمان کا کہنا تھا کہ اگر یہ تاثر طول پکڑ گیا کہ عدلیہ تحمل کا مظاہرہ نہیں کر رہی تو یہ نہ صرف اعلیٰ عدلیہ کے ججوں بلکہ پارلیمان کے لیے بہتر نہیں ہوگا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ مختلف درخواستوں کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ میں پارلیمان کے وقار کو مجروح کیا جا رہا ہے۔

فرحت اللہ بابر نےکہا کہ سپریم کورٹ نے توہین عدالت کے مقدمے میں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی نااہلی سے متعلق قومی اسمبلی کی سپیکر کی رولنگ کو کالعدم قرار دے دیا جبکہ دوسری جانب سپریم کورٹ کے رجسٹرار پارلیمان کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سامنے بھی پیش نہیں ہوئے۔

یاد رہے کہ اعلیٰ عدالتوں کے کچھ ججوں کی جانب سے دو دو پلاٹ لینے سے متعلق پاکستان کی قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے سپریم کورٹ کے رجسڑار کو طلب کیا تھا لیکن انہوں نے پیش ہونے سے انکار کردیا تھا۔

اس کے علاوہ ڈاکٹر فقیر حسین چیف جسٹس کے صاحبزادے ڈاکٹر ارسلان اور بحریہ ٹاؤن کے سابق سربراہ ملک ریاض کے درمیان پیسوں کے لین دین کی تحققیات کرنے والے قومی احتساب بیورو کی مشترکہ تحققیاتی ٹیم کے سامنے بھی پیش نہیں ہوئے۔اس تحققیاتی ٹیم نے ڈاکٹر فقیر حسین کو ستائیس جولائی کو پیش ہونے کو کہا تھا۔

فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ پارلیمان نے یہ کبھی نہیں کہا کہ عدلیہ اپنے اختیارات سے تجاوز کر رہی ہے۔

اسی بارے میں